گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈہرکی اور گردونواح کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں غریب اور مستحق خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط کے حصول کے لیے شدید گرمی میں دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔ دور دراز دیہاتوں سے آنے والی یہ خواتین کئی روز سے دکانوں کے باہر بیٹھی اپنے حق کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکیں۔

حالیہ پولیس کارروائیوں اور ادائیگی کے مراکز (دکانیں) بند ہونے کی وجہ سے ان مستحق خواتین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی خواتین صبح سویرے سے شام تک تپتی دھوپ میں انتظار کرنے کے باوجود خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ یہ وظیفہ ہی ان کے گھروں کا واحد سہارا ہے، جس کی بندش نے انہیں فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔

علاقے کے شہریوں اور متاثرہ خواتین نے میڈیا کے توسط سے ایس ایس پی گھوٹکی انور کھتران سے پرزور اپیل کی ہے کہ انسانیت کے ناطے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ایسی حکمت عملی اپنائے جس سے ایک طرف قانون کی بالادستی قائم رہے تو دوسری طرف ان مجبور خواتین کو ان کی رقوم کی ادائیگی بھی ممکن ہو سکے۔

مظلوم خواتین نے فریاد کی ہے کہ فوری طور پر ادائیگی کے مراکز کھلوائے جائیں تاکہ وہ مزید اذیت اور پریشانی سے بچ سکیں۔ غریب عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھ آسانی پیدا کی جائے اور ان کا حق انہیں باعزت طریقے سے فراہم کیا جائے، کیونکہ یہ وظیفہ ان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا واحد ذریعہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے