واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں امریکی صدر نے ایران کو "بدی کی سلطنت” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ ایرانی جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور عالمی مارکیٹ میں جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو امریکہ اس سے بھاری منافع کماتا ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ صدر کی حیثیت سے ان کے لیے مالی فائدے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کی سلامتی تباہ کرنے سے روکا جائے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ ایران کے خلاف جاری موجودہ فوجی کارروائیوں کو اگلے تین سے چار ہفتوں تک جاری رکھا جائے، جس کے بعد وہ زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر مستقبل کے اقدامات کا حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ماہرین اسے مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل مدتی تنازعے کی پیش گوئی قرار دے رہے ہیں۔