کراچی (کیو این این ورلڈ) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے عہدے سے سبکدوشی کے تناظر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص ساری زندگی کسی منصب پر فائز نہیں رہتا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ کوئی گونگے بہرے یا ڈمی گورنر نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا۔ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ "میں کہہ سکتا ہوں کہ مجھے کس نے ہٹوایا لیکن میں کہوں گا نہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، وہ یہ خبر سن کر کہیں دبک نہیں گئے بلکہ میڈیا کا سامنا کر رہے ہیں۔

کامران ٹیسوری نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ اگر گل پلازہ کے حق میں آواز اٹھانے پر انہیں سزا دی جا رہی ہے تو یہ انہیں قبول ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ گورنر ہاؤس میں آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے والے 50 ہزار بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، یہ اب نئے گورنر ہی بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گورنر ہاؤس میں عوامی فلاح کے جو کام شروع ہوئے تھے، وہ جاری رہنے چاہئیں اور ان کا گھر کراچی کے تمام شہریوں کے لیے ہمیشہ کھلا ہے۔

اپنے عہدے کی تبدیلی کے عمل کے دوران کامران ٹیسوری نے روایتی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نامزد گورنر نہال ہاشمی کو ٹیلیفون کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نہال ہاشمی کو یقین دلایا کہ وہ عوامی فلاح کے تمام اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے ان کا بھرپور ساتھ دیں گے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

علاوہ ازیں، کامران ٹیسوری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی فون کیا اور پونے چار سال پر محیط اچھے تعلقات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عہدے آنے جانے والی چیز ہیں لیکن وزیراعلیٰ نے انہیں جو احترام دیا وہ اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ کامران ٹیسوری نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے