گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف محمدرمضان نوشاہی) گوجرانوالہ کے ضلع وزیرآباد میں واقع تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال میں ڈاکٹرز اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی کے بعد شدید جھگڑا ہوگیا جس کے نتیجے میں ڈاکٹرز نے احتجاجاً کام چھوڑ دیا، جبکہ واقعے کے بعد ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو علاج معالجے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھانہ سٹی وزیرآباد کے ایس ایچ او ایک کیس کے سلسلے میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (ایم ایل سی) کے اجرا کے لیے ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کا کہنا ہے کہ میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں مبینہ تاخیر پر ایس ایچ او اور متعلقہ ڈاکٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو بعد ازاں جھگڑے میں تبدیل ہوگئی۔

ایم ایس کے مطابق ایس ایچ او نے غصے میں آکر ڈاکٹر کو کمرے میں بند کر دیا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے ساتھ اس رویے کے بعد دیگر ڈاکٹرز نے شدید احتجاج کیا اور واقعے کے خلاف علامتی طور پر کام چھوڑ دیا، جس کے باعث ہسپتال میں او پی ڈی سمیت کئی شعبوں میں طبی خدمات متاثر ہوئیں اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب پولیس کا مؤقف اس واقعے سے مختلف ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ایک لیڈی کانسٹیبل میڈیکل چیک اپ اور قانونی کارروائی کے لیے میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے ہسپتال گئی تھی، تاہم ڈاکٹرز کی جانب سے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ لیڈی کانسٹیبل پر لیڈی ڈاکٹر کا پرس چوری کرنے کا الزام بھی عائد کر دیا، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) گوجرانوالہ نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے لیا۔ سی پی او کے مطابق واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جو ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹرز اور پولیس اہلکاروں کے بیانات سمیت تمام شواہد کا جائزہ لے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ادھر ضلعی انتظامیہ اور ہسپتال حکام کی جانب سے ڈاکٹرز کو معمول کے مطابق ڈیوٹی پر واپس لانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں تاکہ مریضوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے