نیویارک ( کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ مشترکہ حملوں کے نتیجے میں اب تک 1300 سے زائد ایرانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے عالمی ادارے کو ارسال کیے گئے ایک بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی سفیر کے مطابق ان فوجی کارروائیوں میں صرف جانی نقصان ہی نہیں ہوا بلکہ بڑے پیمانے پر سویلین بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب تک مجموعی طور پر 9 ہزار 669 شہری مقامات تباہ ہو چکے ہیں، جن میں 7 ہزار 943 رہائشی مکانات بھی شامل ہیں۔ امیر سعید ایروانی نے واضح کیا کہ حملوں کا رخ جان بوجھ کر رہائشی علاقوں اور عوامی تنصیبات کی طرف موڑا گیا ہے۔

ایرانی مندوب نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اس واقعے میں چار اعلیٰ ایرانی سفارتکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے صدور کو لکھے گئے ایک ہنگامی خط میں اس واقعے کی باقاعدہ اطلاع دی ہے تاکہ عالمی سطح پر اس کا نوٹس لیا جا سکے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 8 مارچ کو بیروت کے ایک ہوٹل پر کیے گئے اس حملے میں شہید ہونے والوں میں سفارت خانے کے سیکنڈ اور تھرڈ سیکرٹری، ملٹری اتاشی اور ملٹری مشن آفیسر شامل ہیں۔ خط میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سفارتکاروں اور سویلین آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جس پر عالمی برادری کو اپنی خاموشی توڑنی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے