کراچی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگارڈاکٹربشیر احمد بلوچ) شیرِ خدا، دامادِ رسولؐ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یومِ شہادت آج ملک بھر میں انتہائی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوس برآمد کیے جا رہے ہیں جن میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
کراچی میں یومِ علیؓ کا مرکزی جلوس روایتی راستوں سے برآمد ہوگا، جس کے لیے صدر اور ملحقہ علاقوں کی مختلف سڑکوں اور گلیوں کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ مرکزی جلوس سے قبل نشتر پارک میں مجلسِ عزا منعقد ہوگی، جس کے بعد جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔
راولپنڈی اور پشاور میں بھی یومِ علیؓ کے مرکزی جلوس برآمد ہوئے؛ راولپنڈی کا جلوس امام بارگاہ کرنل مقبول جبکہ پشاور کا جلوس کوچی بازار سے ہوتا ہوا امام بارگاہ سید عالم شاہ پر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہو گیا۔ ان مواقع پر عزاداروں نے شہدائے کربلا اور حضرت علیؓ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کراچی میں سکیورٹی انتظامات اور جلوس کے روٹس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے 28 فروری کو امریکی قونصلیٹ پر فائرنگ کے واقعے سے متعلق بتایا کہ انکوائری جاری ہے اور فی الحال کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد شہر میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور پولیس افسران کے تبادلوں کو انتظامی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔