پیف سکولز: آئین پاکستان کی پامالی اور نسلِ نو کی تعلیمی تباہی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفے بڈانی
پاکستان کا آئین ایک مقدس دستاویز ہے جو ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ ہر شہری کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرے، جن میں زندگی، آزادی، تعلیم، مساوات، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے، انصاف اور انسانی وقار شامل ہیں۔ یہ حقوق نہ صرف فرد کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہیں بلکہ ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ تاہم، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں کا نظام اس آئینی روح کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہ سکول، جو غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے نام پر قائم کیے گئے، اب ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پیف سکولوں کے مالکان اور منتظمین کی جانب سے تعلیمی معیار میں کمی، تجارتی مفادات اور انتظامی غفلت نے نہ صرف آئین کی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان کے آئین کی شق 25-اے ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ یہ شق تعلیم کو صرف ایک حق ہی نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری بھی قرار دیتی ہے۔ اسی طرح شق 22 مذہبی تعلیم کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے، جس کے مطابق کسی طالب علم کو اس کے مذہب کے خلاف تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شقیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھتی ہیں جو علمی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی، مذہبی اور قومی اقدار کی بھی پرورش کرے۔ لیکن پیف سکولوں کا موجودہ نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سکول، جو پنجاب حکومت کی شراکت سے چلائے جاتے ہیں، تعلیمی بحران اور معیار کی کمی کا سبب بن چکے ہیں۔ پیف کا سلیبس ایسا ہے کہ اس میں معاشرتی علوم (سوشل سٹڈیز) اور اسلامیات/دینیات جیسے اہم مضامین شامل ہی نہیں ہیں، نتیجتاً ان کا امتحان بھی نہیں لیا جاتا اور سکول مالکان نے انہیں پڑھانا بند کر دیا ہے۔ یہ نہ صرف شق 22 کی خلاف ورزی ہے بلکہ شق 25-اے کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے، کیونکہ مفت اور لازمی تعلیم کا مقصد صرف خواندگی نہیں بلکہ مکمل شخصیت کی تعمیر ہے۔ بچوں کو دین، پاکستان کی تاریخ، جغرافیہ اور قومی اقدار سے دور رکھنا ایک دانستہ سازش لگتی ہے جو قوم کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، پیف سکولوں کے طلباء کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور ہے یا سندھ کا کراچی، جو ایک تعلیمی ادارے کے لیے ناقابل قبول ہے۔ یہ آئینی حقوق کی کھلی توہین ہے اور ریاست کی ناکامی کا ثبوت بھی ہے۔
پیف سکولوں کی انتظامی ساخت ایک بڑے مافیا کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں سکول مالکان کی لالچ اور پیف کے ارباب اختیار کی غفلت نے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ سکول مالکان پیف کو جو ریکارڈ جمع کراتے ہیں، اس میں اساتذہ کو ماسٹرز یا گریجویٹ ڈگری ہولڈرز دکھایا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ریکارڈ جعلی ہوتے ہیں۔ پیف کی جانب سے کسی بھی سکول کی اچانک چیکنگ یا چھاپہ مار مہم نہیں چلائی جاتی، جس کی وجہ سے مالکان مڈل یا میٹرک پاس افراد کو انتہائی کم تنخواہ پر بھرتی کر لیتے ہیں۔ یہ "اساتذہ” خود سلیبس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور نتیجتاً بچوں کو معیاری تعلیم نہیں ملتی۔
یہ انتظامی ناکامی آئین کی شقوں کی واضح خلاف ورزی ہے، کیونکہ شق 25-اے میں "لازمی تعلیم” کا مطلب معیاری تعلیم ہے، نہ کہ نیم خواندہ افراد کی جانب سے دی جانے والی ناقص تربیت۔ مزید برآں، یہ انسانی وقار اور مساوات کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ غریب بچوں کو ایسے سکولوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں تعلیم کے نام پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ پیف کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکول مالکان نہ صرف جعلی اساتذہ رکھتے ہیں بلکہ انہیں تنخواہ بھی کم دیتے ہیں، جو لیبر قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اگر ریاست واقعی آئین کی پابند ہے تو اسے ایسے نظام کی اصلاح کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں، جیسے باقاعدہ آڈٹ اور چیکنگ سسٹم کا قیام۔
پیف سکولوں کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں تعلیم کو تجارت بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری کتب، جو مفت فراہم کی جاتی ہیں، اکثر استعمال نہیں کی جاتیں۔ اس کی بجائے سکول مالکان مخصوص پبلشر کمپنیوں سے ڈیل کر کے مہنگی کتابیں، گائیڈز اور خلاصے طلباء پر مسلط کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پرجو آج ایک گائیڈ منگوائی گئی ہے جس کی قیمت 1000 روپے ہو سکتی ہے اور اگلے ہفتے ایک اور خلاصہ کا مطالبہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف والدین پر مالی بوجھ ڈالتا ہے بلکہ آئین کی شق 25-اے کی بھی خلاف ورزی ہے، جو مفت تعلیم کی بات کرتی ہے۔
اساتذہ کی قابلیت کا عالم یہ ہے کہ وہ کتابیں پڑھانے کی بجائے طلباء کو صرف نشان لگا کر دیتے ہیں کہ "یہاں سے یہاں تک یاد کرو”۔ اگر گھر میں والدین یا بہن بھائی بچوں کو تیاری کروائیں تو اسے غلط قرار دے کر طلباء کو سزا دی جاتی ہے۔ یہ تعلیمی نظام تخلیقی سوچ اور گھر میں سیکھنے کی مدد کو سزا کے قابل قرار دیتا ہے، جو آئین کی شق 19 (اظہارِ رائے کی آزادی) اور انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے ماحول میں بچے نہ تو دین سیکھتے ہیں، نہ قومی تاریخ، اور نہ ہی معیاری علمی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نتیجتاً ہماری آنے والی نسلیں کل کے معمار نہیں بلکہ ناکام افراد کا ایک ہجوم بنتی جارہی ہیں۔
پیف سکولوں کا یہ نظام نہ صرف آئین پاکتسان کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی مستقبل کو تباہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر بچوں کو مذہبی اور قومی اقدار سے دور رکھا گیا تو معاشرہ ترقی کیسے کرے گا؟ یہ سوال ریاست، پیف اور سکول مالکان سے پوچھا جانا چاہیے۔ اصلاح کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں: پیف سلیبس میں اسلامیات اور معاشرتی علوم کو لازمی قرار دیا جائے، سکولوں کی باقاعدہ چیکنگ اور آڈٹ سسٹم قائم کیا جائے، اساتذہ کی قابلیت کی تصدیق اور مناسب تنخواہوں کو یقینی بنایا جائے، تجارتی استحصال روکنے کے لیے سرکاری کتب کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے۔ اگر یہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پیف سکول مالکان آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دیے جائیں گے اور ہماری نسلیں تاریک مستقبل کی طرف گامزن رہیں گی۔ اب وقت ہے کہ ریاست اپنی آئینی ذمہ داری نبھائے اور تعلیم کو حقیقی معنوں میں مفت، لازمی اور معیاری بنائے۔
