اسلام آباد/راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) پاک فوج کا افغان طالبان رجیم اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’’غضب للحق‘‘ پوری قوت سے جاری ہے، جس میں اب تک افغان طالبان کے 583 کارندے ہلاک اور 795 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دشمن کی 242 چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ 38 پوسٹوں پر قبضہ کر کے انہیں جڑ سے اکھاڑ دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران دشمن کے 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز بھی ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔
پاک فضائیہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے 64 مختلف ٹھکانوں پر انتہائی مؤثر فضائی کارروائیاں کیں، جس سے ان کا نیٹ ورک مکمل طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع باجوڑ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر اور جنوبی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائیوں کے دوران فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ ان ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
پاک افغان سرحد پر چمن سیکٹر میں بھی سکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک خارجی دہشت گرد کو ہلاک کر دیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی زخمی حالت میں فرار ہو گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔