ماسکو (کیو این این ورلڈ) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے موجودہ بحران کا ذمہ دار مغربی ممالک کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال کیف میں حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ روسی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ بحران کی جڑیں اس وقت پڑیں جب مغرب نے کیف میں غیر قانونی اقدامات کی پشت پناہی کی، جس کے بعد کرائمیا، ڈونباس اور نووروسیا کے واقعات نے اس کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا۔
روسی صدر نے یوکرین کی موجودہ صورتحال کو مغربی ممالک کی ایک بڑی اور نظامی غلطی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیف حکومت اپنے مقاصد کے لیے یورپی ممالک کو استعمال کر رہی ہے، جس کے لیے انہوں نے "دم کتے کو ہلا رہی ہے” کی مثال دی، یعنی کمزور فریق طاقتور کو کنٹرول کر رہا ہے۔ پیوٹن کے مطابق مغرب آج وہی نتائج بھگت رہا ہے جو اس نے اپنی پالیسیوں سے خود پیدا کیے، اور یہ سب روس کے اقدامات کا نہیں بلکہ مغربی مداخلت کا حاصل ہے۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے مزید خبردار کیا کہ ان حالات کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والا یہ اضطراب براہِ راست مغربی ممالک کی غلط حکمت عملیوں سے جڑا ہوا ہے۔