اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) عافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے ایک بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 202 اور ہائی کورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس ہی "ماسٹر آف دی روسٹر” ہیں اور بینچوں کی تشکیل کا خصوصی اختیار صرف انہی کے پاس ہے۔ لارجر بینچ، جو جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس انعام امین منہاس، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل تھا، نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کیس میں 21 جولائی 2025 کو جاری کیا گیا حکم نامہ قانونی دائرہ اختیار سے باہر تھا، کیونکہ اس وقت متعلقہ جج منظور شدہ روسٹر کا حصہ نہیں تھے۔ اس بنیاد پر عدالت نے 21 جولائی 2025 کے حکم نامے کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ ہائی کورٹ کا کوئی بھی بینچ صرف چیف جسٹس کے منظور شدہ روسٹر کے ذریعے ہی تشکیل پا سکتا ہے اور عدالتی اختیار کسی جج کی انفرادی حیثیت سے وابستہ نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف قانونی طور پر تشکیل شدہ بینچ کے ذریعے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فیصلے کے مطابق کوئی بھی جج یا بینچ اپنی مرضی سے کسی مقدمے کو خود کو الاٹ نہیں کر سکتا اور نہ ہی منظور شدہ روسٹر سے باہر جا کر کسی کیس کی سماعت کر سکتا ہے۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ روسٹر کی خلاف ورزی پر جاری کیے گئے احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اور ہائی کورٹ کے قواعد کی پابندی تمام ججوں اور عدالتی افسران پر لازم ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی کوششوں پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ تاہم، لارجر بینچ کے حالیہ فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ چیف جسٹس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقدمات کو یکجا کر کے کسی بھی بینچ کو منتقل کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد اب عافیہ صدیقی کیس کی قانونی کارروائی نئے سرے سے تشکیل شدہ بینچ کے قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھے گی۔