واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے "غزہ بورڈ آف پیس” کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہو گیا ہے، جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے سفارتی وفود شریک ہیں۔ افتتاحی خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک عظیم انسان اور اعلیٰ سپہ سالار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک "ٹف فائٹر” ہیں جنہوں نے جنگ رکوانے اور لاکھوں زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ انہیں بہت پسند کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان ہمیشہ ان کی جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر انکشاف کیا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوائی اور بھارتی وزیراعظم مودی کو واضح کیا کہ بصورتِ دیگر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے تھے، تاہم اب تک وہ دنیا کی 8 بڑی جنگیں رکوا چکے ہیں اور جلد ہی نویں جنگ کا بھی خاتمہ کرائیں گے۔

غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے حماس پر تنقید کی اور امید ظاہر کی کہ حماس معاہدے کے تحت جلد ہتھیار ڈال دے گی، جبکہ ایران بھی اگلے 10 روز میں معاہدہ کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بورڈ آف پیس غزہ کے روشن مستقبل اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بنایا گیا ہے جس میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اہم ممالک شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امن بورڈ کے اراکین اب تک غزہ کے لیے 7 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دے چکے ہیں، جبکہ امریکہ تعمیرِ نو کے لیے مزید 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیفا بھی غزہ کے منصوبوں کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں تعاون کرے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہم آہنگ مشرقِ وسطیٰ اور ایسا غزہ دیکھنا چاہتے ہیں جہاں طرزِ حکمرانی مثالی ہو اور وہاں دوبارہ فوج بھیجنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے