نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت کی جانب سے اپنی تکنیکی ترقی کے پرچار کے لیے منعقد کی گئی "انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026” (India AI Impact Summit 2026) اس وقت عالمی سطح پر مذاق اور شدید تنقید کا نشانہ بن گئی جب نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہونے والی اس تقریب میں "میک ان انڈیا” کے جھوٹے دعووں کا پول کھل گیا۔ سمٹ میں ایک بھارتی نجی یونیورسٹی کی جانب سے چینی ساختہ روبوٹ کو اپنی ایجاد قرار دینے کے واقعے نے بھارت کے "شائننگ انڈیا” اور جدت کے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
اس عالمی رسوائی کا مرکزی آغاز اس وقت ہوا جب گریٹر نوئیڈا کی گلگوٹیا یونیورسٹی (Galgotias University) نے سمٹ کے ایکسپو ایریا میں ایک روبوٹک ڈاگ (Robotic Dog) کو "Orion” کا نام دے کر پیش کیا۔ یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے سرکاری براڈکاسٹر ڈی ڈی نیوز (DD News) کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ حیرت انگیز دعویٰ کیا کہ یہ روبوٹک ڈاگ یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسی لینس میں مکمل طور پر "ان ہاؤس انوویشن” کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ تاہم، انٹرویو کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا، کیونکہ وہ درحقیقت چینی کمپنی یونٹری روبوٹکس (Unitree Robotics) کا تیار کردہ کمرشل پروڈکٹ "Unitree Go2” تھا، جو عالمی مارکیٹ میں محض 1,600 ڈالر میں عام دستیاب ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محض 12 گھنٹوں میں ایک ملین سے زائد ویوز حاصل کر گئی اور عالمی میڈیا بشمول رائٹرز (Reuters) نے اسے نمایاں طور پر کور کیا۔ اس واقعے پر بھارت کو بین الاقوامی سطح پر شدید تذلیل کا سامنا کرنا پڑا کہ کس طرح "میک ان انڈیا” کی نمائش میں غیر ملکی، بالخصوص چینی ٹیکنالوجی پر اپنا لیبل لگا کر دنیا کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ عوامی دباؤ اور حکومتی سبکی کے باعث سمٹ کے منتظمین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گلگوٹیا یونیورسٹی کو اپنا اسٹال ختم کرنے اور جگہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اگرچہ یونیورسٹی نے بعد میں اسے "غلط فہمی” قرار دیتے ہوئے معافی مانگی، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے بھارت کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس سمٹ میں صرف یہی ایک اسکینڈل نہیں تھا بلکہ پوری تقریب بدانتظامی کا شکار نظر آئی۔ شرکاء کو انٹری کے لیے رجسٹریشن کے مسائل اور تکنیکی خرابیاں درپیش رہیں، جبکہ سمٹ کے دوران سست رفتار انٹرنیٹ اور بعض اسٹالز سے اشیاء کی چوری جیسے شرمناک واقعات نے سیکیورٹی اور انتظامات پر بڑے سوالات اٹھا دیے۔ سیاسی میدان میں بھی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی سمیت دیگر مخالفین نے اسے مودی حکومت کی پی آر (PR) مہم اور کھوکھلے دعووں کی ناکامی قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ سمٹ گلوبل ساؤتھ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی اور انفراسٹرکچر پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے بلائی گئی تھی، لیکن ایک یونیورسٹی کے "جعلی دعوے” اور انتظامی انتشار کی وجہ سے یہ پورا ایونٹ بھارت کے لیے فخر کے بجائے عالمی شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے طنزاً "شائننگ انڈیا” کی اصل حقیقت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام کس قدر کمزور ہے۔