تہران (کیو این این ورلڈ)امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں پر مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملے جاری رکھتے ہوئے ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنوں، پلوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ نے بندرعباس، بندر خمیر، اہواز، بوشہر اور دیگر علاقوں میں شدید بمباری کی۔ بندر خمیر میں دو اہم پل حملوں میں تباہ ہوگئے جبکہ دو افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔ متاثرہ پل بندرعباس اور لار کے درمیان آمدورفت کے لیے اہم رابطہ راستہ سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بندرعباس میں ایک رہائشی عمارت، ریلوے اسٹیشن، پل اور مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد زخمی ہوئے۔ ایک پہاڑی پر قائم مواصلاتی ٹاور پر حملے کے باعث کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا۔
ایران شہر میں واقع ایئرپورٹ کے اطراف تین دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ ایک میزائل ایئرپورٹ کے احاطے میں آ کر گرا۔ اس کے علاوہ کہورستان گاؤں کے قریب اور شور دریا پر قائم دو پلوں پر بھی حملے کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے خلیج فارس میں موجود ایک سپر ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایران کے ایک آئل ایکسپورٹ ٹرمینل کے قریب کی گئی۔ مزید برآں امریکی میرینز نے ایک بحری جہاز کی تلاشی لی جبکہ تین دیگر جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ادھر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم ان حملوں کی تفصیلات اور نقصانات کے حوالے سے مزید معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کر دی گئی ہے، جس کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔