اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے ایک نیا فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی اور براہ راست رابطے نہیں ہوں گے، اس وقت تک ملک بہتر سمت میں نہیں بڑھ سکتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان پانچ بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، میاں نواز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، عمران خان اور پانچویں شخصیت وہ ہے جس کا سب کو بخوبی علم ہے، ان کے بقول جب تک ان اہم شخصیات کے درمیان ایک دوسرے پر یقین اور رابطے کی فضا قائم نہیں ہوگی، نچلی سطح پر سیاسی رہنماؤں کی کوششوں سے کوئی بڑا بریک تھرو ممکن نہیں۔ رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کو افواجِ پاکستان اور ان کے سربراہان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری غلیظ مہم فوری طور پر بند کرنی چاہیے کیونکہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یہ کہہ کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتی کہ ان کا ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کنٹرول نہیں ہے، کیونکہ عمران خان کے پیغامات کے مطابق ہی ٹویٹس اور دیگر مواد شیئر کیا جاتا ہے، لہٰذا پی ٹی آئی کو ان اکاؤنٹس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے 8 فروری کے لیے دی گئی ‘پہیہ جام’ ہڑتال کی کال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کال مکمل طور پر ناکام ہوگی اور اگر کہیں بھی قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی تو شرپسند عناصر ایسے دھر لیے جائیں گے کہ بعد میں انہیں 9 مئی جیسی سزاؤں کا گلہ ہوگا۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ احتجاج کی یہ کال واپس لیں تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے رانا ثناء اللہ کے موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور قانونی حق ہے جو گزشتہ 75 برسوں سے ملک میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کال پر 9 مئی کی یاد دلوا کر ڈرانا مناسب نہیں ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے یا قانون شکنی کرے تو اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔ عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے اور اسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔