پشاور کی سرزمین صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور روایتوں کا امین خطہ ہے

جگی اصحاب بابا روڈ کی کہانی، دیہات، تاریخ اور محبتوں کا راہگزر
تحریر: منور شاہ منور
پشاور کی سرزمین صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور روایتوں کا امین خطہ ہے۔ اسی سرزمین پر ایک اہم شاہراہ ایسی بھی ہے جو مختلف دیہات، بستیوں اور یادوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جسے لوگ پجگی روڈ یا اصحاب بابا روڈ کے نام سے جانتے ہیں، جو پشاور تبلیغی مرکز بشیر آباد سے شروع ہو کر چغرمٹی اصحاب بابا تک پہنچتا ہے۔

اس سڑک کا آغاز پشاور باچا خان چوک سے ہوتا ہے جہاں سب سے پہلے تبلیغی مرکز بشیر آباد پھر مال منڈی آتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں مویشیوں کی بڑی منڈی لگتی تھی اور دور دور سے لوگ اپنے جانور لے کر آتے تھے۔ وقت کے ساتھ حالات بدلے، منڈی ختم ہو گئی اور اب اس مقام پر جدید رنگ روڈ تعمیر ہو چکی ہے جبکہ اصحاب بابا روڈ بھی نئے انداز میں تعمیر ہو کر علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کر چکا ہے۔ اسی مقام پر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی موجود ہے جہاں عوامی نیشنل پارٹی کا باچا خان مرکز قائم ہے۔

مال منڈی سے آگے بڑھیں تو راستہ مختلف بستیوں کی کہانی سناتا جاتا ہے۔ اسلم ڈھیری، بجلی کا گرڈ اسٹیشن اور پھر قدیم فقیر گاؤں کلے آتا ہے جو میاں فقیر بابا نے آباد کیا تھا جہاں پران کا مزار اب بھی موجود ہے۔ اب باری پجگی اور مندر خیل گاؤں، اس کے بعد غزالی گھڑی، گوٹ پیر چھولی جیسے دیہات اپنی سادگی اور دیہی زندگی کی خوبصورتی کا احساس دلاتے ہیں۔ اسی راستے سے ایک شاخ گاؤں مندرہ خیل کی طرف بھی نکلتی ہے۔

آگے چل کر چھولی بالا اور بلال آباد کے بعد چارپریزہ چوک آتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں پولیس کی چیک پوسٹ قائم تھی اور یہ مقام چار مختلف سڑکوں کے سنگم کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک سڑک چارسدہ روڈ سے ہوتی ہوئی متھرہ ورسک روڈ تک جاتی تھی جبکہ دوسری سڑک پشاور سے سیدھی اصحاب بابا تک پہنچتی تھی۔ آج بھی یہاں سے گل آباد، علی زئی اور زور گھڑی جیسے دیہات کی طرف راستے نکلتے ہیں۔

چارپریزہ کے بعد محمد امین گھڑی، خپہ کلے اور شیر آباد جیسے علاقے آتے ہیں۔ پھر گھڑی خانگل خان کا مقام ہے جو اپنی مشہور ارہ مشین کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے جہاں درختوں کے تنوں کو چیرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بربر سٹاپ آتا ہے جہاں سے بربر، آمیر خیل، بہادر خیل، یخ ڈنڈ اور اوپازئی کی طرف راستے نکلتے ہیں۔

اسی سفر میں آگے گھڑی قصابان سٹاپ آتا ہے جہاں سے ظریف خان گھڑی، شہندے، نستہ اور حسن آباد کے دیہات کو راستہ جاتا ہے۔ اور پھر آتا ہے ہمارا تاریخی گاؤں گڑنگہ جسے لوگ محبت سے گڑنگی کہتے ہیں۔ اس کے دو حصے ہیں: گوز گڑنگے یعنی گڑنگہ پایان اور کوبر گڑنگے یعنی گڑنگہ بالا۔ گڑنگہ بالا اپنی تاریخ اور روایتوں کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

گڑنگہ بالا کے ساتھ پیر کلے آباد ہے جہاں زیادہ تر اہلِ سادات رہتے ہیں۔ یہاں موجود شڑشم بابا قبرستان اپنی خاص پہچان رکھتا ہے جہاں کھجوروں کے بلند و بالا درخت ایسے منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ عرب کی سرزمین میں کھجوروں کے باغات کے درمیان کھڑا ہو۔

پیر کلے کے بعد چغرمٹی کا بازار شروع ہوتا ہے جو تاریخی اعتبار سے نہایت اہم مقام ہے۔ یہاں قدیم ہندو آبادی کے آثار آج بھی موجود ہیں، خاص طور پر وہ شمشان گھاٹ جہاں ہندو اپنے مردوں کو جلایا کرتے تھے۔ اسی علاقے میں مشہور روحانی بزرگ میاں جی بابا کا مزار بھی واقع ہے جہاں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

چغرمٹی ہی کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت سنان رض کا مزار موجود ہے جو اصحاب بابا کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ زیارت اور دعا کے لیے آتے ہیں اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔

چغرمٹی کے مقام پر دریا کابل بہتا ہے جو ورسک ڈیم سے ہو کر جواٹک کے مقام پر اباسین دریا میں گرتا ہے۔ چغرمٹی سے ایک راستہ شغالی پیاری نیلاوی ڈانگ لختی و دیگر علاقوں ہو کر ناگمان چوک جبکہ وزیر و کلے سے ہو کر میچنی تک جاتا ہے۔ یہاں سے ایک راستہ ہریان گھڑ علی محمد گھڑی سے ہوتا ہوا گاڑہ تاجک پیپل سٹاپ ورسک روڈ کو بھی جاتا ہے۔

یہ اصحاب بابا کی یہ مرکزی شاہراہ آگے خٹ کلے، شیرداد گھڑی، میاں خیل، آلو کلے، شیر کلے، ڈھیری کلی اور چہل غازی بابا قبرستان سے ہوتی ہوئی باڑہ چوک تک پہنچتی ہے اور پھر باڑہ چوک کے راستے ورسک ڈیم تک جا نکلتی ہے۔ اسی شاہراہ سے ایک راستہ میچنی کے ذریعے پیر قلعہ اور شبقدر کی طرف بھی جاتا ہے۔

ان تمام دیہات میں زیادہ تر پشتون یا پٹھان قوم آباد ہے جو اپنی روایات، مہمان نوازی اور غیرت کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا بنیادی ذریعہ معاش زمینداری ہے۔ یہاں کے کھیتوں میں مکئی، گندم، چاول اور دیگر فصلیں لہلہاتی ہیں۔ یہاں کے محنت کش لوگ اپنی محنت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو بھی نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ دینی علوم اور دنیاوی تعلیم دونوں کو زندگی کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

یوں پجگی اصحاب بابا روڈ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ دیہات، تاریخ، ثقافت اور انسانوں کے رشتوں کو جوڑنے والی ایک زندہ داستان ہے۔ یہ راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل پاکستان انہی بستیوں میں سانس لیتا ہے جہاں زمین کی خوشبو، ایمان کی روشنی اور انسانوں کی سادگی آج بھی زندہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے