اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ازم کا پول ایک بار پھر اس وقت کھل گیا جب اتر پردیش کے شہر بریلی میں انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک کیفے میں جاری سالگرہ کی تقریب پر دھاوا بول کر مسلم نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ معروف بھارتی اخبار ‘ہندوستان ٹائمز’ اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، راجندر نگر کے ایک مقامی کیفے میں نرسنگ کی طالبہ اپنے ہم جماعتوں کے ہمراہ سالگرہ منا رہی تھی کہ بجرنگ دل کے غنڈوں نے ‘لو جہاد’ کا بے بنیاد الزام لگا کر وہاں توڑ پھوڑ کی اور مسلم نوجوانوں کو ہراساں کیا۔

رپورٹ میں اس افسوسناک پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انتہا پسندوں نے نہ صرف تقریب کو درہم برہم کیا بلکہ نوجوانوں پر سرِعام تشدد بھی کیا، جبکہ موقع پر موجود پولیس نے حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے تماشائی بنے رہنے کو ترجیح دی اور الٹا مظلوم مسلم نوجوانوں پر ہی امن عامہ میں خلل ڈالنے کا الزام لگا کر بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔ اس واقعے نے بھارتی ریاست اور پولیس کے متعصبانہ رویے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے، جہاں مجرموں کو تحفظ اور متاثرین کو سزا دینا اب ایک باقاعدہ سرکاری پالیسی بن چکا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی اس رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بھارت بھر میں مسلمانوں کے لیے معاشی اور سماجی دائرہ مکمل طور پر تنگ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف بریلی میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ہماچل پردیش میں کشمیری تاجروں پر حملوں کے مسلسل واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ بھارت میں اقلیتیں اب مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی سیاسی حلقوں نے اس منظم استحصال کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت میں اب مسلمانوں کا کاروبار کرنا یا کسی نجی تقریب میں شرکت کرنا بھی جرم تصور کیا جانے لگا ہے۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارتی میڈیا کی ان رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والا یہ ظلم و ستم خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے اور مودی سرکار کا ‘سیکولر انڈیا’ کا دعویٰ دنیا کے سامنے دم توڑ چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے