شکارپور (کیو این این ورلڈ/مشتاق علی لغاری ) میونسپل انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی نے ایک معصوم بچے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا، بھٹائی کالونی کا رہائشی کمسن عادل لاشاری کھیلتے ہوئے کھلے گٹر میں گر کر ڈوب گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس اندوہناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور بچے کی والدہ غم کی شدت سے بار بار بے ہوش ہوتی رہیں، جبکہ اہلِ خانہ اور اہل علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں درجنوں گٹر بغیر ڈھکن کے کھلے پڑے ہیں جو موت کے کنویں بن چکے ہیں، لیکن بار بار شکایات کے باوجود میونسپل حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
عوامی حلقوں، سماجی تنظیموں اور متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم عادل لاشاری کی موت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر قتلِ خطا کے مقدمات درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے، متاثرہ خاندان کو مالی معاوضہ دیا جائے اور شہر بھر کے تمام کھلے گٹروں کو ہنگامی بنیادوں پر ڈھکن لگا کر بند کیا جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر غفلت کے مرتکب عناصر کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو شکارپور بھر میں شدید احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہوگی۔ یہ سانحہ شکارپور کی میونسپل کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔