واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکا میں شدید برفانی طوفان نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔ شدید برفباری، بارش اور یخ بستہ ہواؤں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں دفاتر، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
واشنگٹن، نیویارک، ٹیکساس، اوکلاہوما، نیوجرسی سمیت درجنوں ریاستوں میں سرد ہواؤں کے ساتھ شدید برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ برفانی طوفان کے باعث امریکا بھر میں 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ واشنگٹن میں وفاقی دفاتر بند رکھے گئے ہیں۔ آرکنساس سے نیو انگلینڈ تک کئی علاقوں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث سڑکیں بند اور تعلیمی ادارے معطل کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پٹسبرگ کے شمالی علاقوں میں 20 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ درجہ حرارت منفی 31 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ بعض علاقوں میں دہائیوں کی شدید ترین سردی محسوس کی گئی۔ نیویارک سٹی میں کھلے مقامات سے 8 افراد کی لاشیں ملنے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔
بارش اور برفانی طوفان کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 44 ریاستوں میں تقریباً 20 کروڑ افراد کے لیے شدید ترین سردی کی وارننگ جاری کی گئی ہے، جبکہ 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر ایک اور طاقتور برفانی طوفان مشرقی ساحلی علاقوں کو متاثر کرے گا، جس سے حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔