اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) بھارت میں حجاب کی بے حرمتی کے حالیہ واقعے کے خلاف مقامی نجی کالجز میں "عزت، آزادی اور وقار کی پامالی ہرگز جائز نہیں” کے عنوان سے سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جس میں شرکاء نے بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سامنے ڈاکٹر نصرت پروین کے حجاب کی توہین پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ کالج انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقدہ ان سیمینارز میں مقررین نے اس واقعے کو ایک خاتون کی ذاتی آزادی، مذہبی شناخت کی کھلی خلاف ورزی، انسانی وقار کی پامالی اور بنیادی آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلم خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔

سیمینار کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ نفرت، تنگ نظری اور تعصب جیسے معاشرتی ناسوروں کو ختم کرنا ہر ذی شعور شہری کی ذمہ داری ہے، کیونکہ سماجی ہم آہنگی اور حقیقی ترقی صرف باہمی احترام، برداشت اور مساوات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مقررین نے طالبات اور حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ، عزت و وقار کا احترام اور مذہبی رواداری کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی اکائیاں ہیں جن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ حجاب ایک مذہبی فریضہ اور ذاتی انتخاب ہے جس کی توہین کر کے بھارتی انتہا پسندوں نے اپنی پست ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔

اس موقع پر طالبات نے احتجاجاً مختلف بینرز اور چارٹس بھی تیار کر رکھے تھے، جن پر حقوق نسواں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے حق میں نعرے درج تھے۔ طالبات نے سیمینار کے دوران بھارتی حکومت کے متعصبانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی ادارے بھارت میں خواتین کی مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے تاکہ ایک باشعور اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے