لندن (کیو این این ورلڈ) برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران پر حملہ کر سکتا ہے اور اس حوالے سے ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز سمیت 50 اہم اہداف کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے، جبکہ فوجی اہداف کی فہرست میں 23 ایرانی فوجی اڈوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مختلف فوجی اڈوں سے غیر ضروری عملے کا انخلا شروع کر دیا ہے، جسے ممکنہ حملے کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران نے پہلے ہی خبردار کر رکھا ہے کہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں برطانیہ نے بھی قطر میں واقع اپنے فضائی اڈے سے کچھ اہلکار واپس بلا لیے ہیں جبکہ قطر نے بھی العدید ایئربیس پر عملے کی کمی کی تصدیق کی ہے۔
مغربی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے فوجی مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے اور کسی بھی وقت کارروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ کشیدگی کے باعث بین الاقوامی سطح پر بھی کھلبلی مچ گئی ہے اور امریکا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسپین، پولینڈ، اٹلی اور بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے تہران میں مقیم اپنے 600 شہریوں کو الرٹ جاری کیا ہے جبکہ پولینڈ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے باشندوں کو فوری انخلا کا حکم دیا ہے۔ برطانیہ نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے تہران سے اپنے تمام سفارتی عملے اور سفیر کو واپس بلا لیا ہے، دوسری جانب جرمنی نے اپنے تمام طیاروں کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ تہران میں موجود بھارتی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دستیاب ذرائع سے جلد از جلد ایران سے نکل جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔