ڈیرہ غازی خان/لاہور(کیو این این ورلڈ/سٹی رپورٹر جواداکبر)ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں کروڑوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ضلع ڈیرہ غازی خان میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے ٹیچنگ ہسپتال کے بچہ وارڈ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر اے سی صدر تیمور عثمان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر عتیق الرحمن، ایم ایس ڈاکٹر منصور افغان، اے ایم ایس ڈاکٹر علی ہاشم سمیت یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیرہ غازی خان میں انسدادِ پولیو مہم 21 مئی تک جاری رہے گی جس میں ایک روزہ کیچ اپ سرگرمی بھی شامل ہوگی۔ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 8 لاکھ 65 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلائی جائے گی۔
مہم کے لیے مجموعی طور پر 113 فکسڈ ٹیمیں، 2359 موبائل ٹیمیں اور 58 ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ 5552 تربیت یافتہ اہلکار اس قومی مہم میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں۔
دوسری جانب ملک بھر میں جاری قومی انسدادِ پولیو مہم کے تحت سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
پنجاب میں لاہور سمیت 10 اضلاع میں مہم جاری ہے، جہاں لاہور میں یہ مہم 24 مئی تک جبکہ دیگر اضلاع میں 22 مئی تک جاری رہے گی۔ راولپنڈی، قصور، شیخوپورہ، ملتان، میانوالی، مظفرگڑھ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں لاکھوں بچوں کو ویکسین دی جا رہی ہے۔
سندھ کے 20 اضلاع میں بھی 5 روزہ مہم جاری ہے جہاں لاکھوں بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں بھی خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر ایک کروڑ نوے لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پولیو ورکرز اس قومی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی فریضے میں بھرپور تعاون کریں تاکہ پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔