اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/بیورورپورٹ) آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما اور سینئر جرنلسٹ ملک ظفر اقبال بھوہڑ نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی حقیقی اور پائیدار ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ترقیاتی منصوبوں میں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں کو بھی یکساں طور پر شامل نہ کیا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ترقی کا پہیہ صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے دیہی علاقے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ دیہی سڑکوں کی خستہ حالی، صحت و تعلیم کی ناقص صورتحال، صاف پانی کی عدم دستیابی اور نکاسی آب کے سنگین مسائل نے دیہی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

ملک ظفر اقبال بھوہڑ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی بجٹ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور دیہات میں سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور روزگار کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دیہات ترقی نہیں کریں گے، شہروں پر آبادی کا دباؤ کم نہیں ہوگا اور نہ ہی ملک مجموعی طور پر خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔ اس موقع پر انہوں نے منتخب نمائندگان، ایم این اے حلقہ این اے 136 اور ایم پی اے پی پی 190 سے خصوصی مطالبہ کیا کہ فور۔ایل کے سیم زدہ چکوک 22 فور ایل اور 23 فور ایل کو اسپیشل کوٹہ میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا ہونے کی وجہ سے عوام پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں، لہٰذا حکومت سرکاری سطح پر یہاں فوری طور پر سولر واٹر سسٹم مہیا کرے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے