اوکاڑہ/لاہور (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) ملک بھر کے صحافیوں کے لیے ریلوے سفری سہولیات میں کمی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صحافتی تنظیموں نے اسے حکومت اور میڈیا کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان یوکے کے صدر میاں ممتاز احمد اور دیگر عہدیداران نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ محکمہ ریلوے کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی رعایت میں کمی تشویشناک ہے، جس سے نہ صرف صحافی برادری متاثر ہو رہی ہے بلکہ حکومت اور میڈیا کے تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے صحافیوں کو ریلوے کرایوں میں 80 فیصد رعایت حاصل تھی، جسے کم کر کے 50 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ کارڈ ہولڈر صحافیوں کی اہلیہ کو دی جانے والی 50 فیصد رعایت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے باعث صحافیوں میں شدید بے چینی اور اشتعال پایا جا رہا ہے۔
میاں ممتاز احمد کا کہنا تھا کہ عید کے دنوں میں خود ریلوے حکام کی جانب سے اربوں روپے آمدن کا دعویٰ کیا گیا، اس کے باوجود صحافیوں کی سہولیات میں کمی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ ریلوے کی بیوروکریسی نے وفاقی وزیر کو غلط معلومات فراہم کر کے یہ فیصلہ کروایا، جو ایک سازش کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار صحافیوں کے لیے یہ سہولت کسی ریلیف سے کم نہیں تھی، جسے محدود کرنا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے تحت چلنے والی ٹرینوں میں بھی قانون کے مطابق صحافیوں کو رعایت ملنی چاہیے۔
صحافتی رہنماؤں نے وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو دی جانے والی سابقہ رعایت فوری طور پر بحال کی جائے اور اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے تاکہ صحافیوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر صحافیوں کی سہولیات میں کمی کا عمل واپس نہ لیا گیا تو تنظیم احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔