اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کی نرمی یا "اگر مگر” کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور انہیں واضح طور پر دہشت گرد ہی پکارا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی سیاسی ناراضی یا حقوق کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ دشمن کے ایما پر پاکستان کے خلاف کی جانے والی مجرمانہ کارروائیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ ترین علاقوں میں بھی چند گروہ مل کر لوگوں کو یرغمال بنا سکتے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ملک کے استحکام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
رانا ثنا اللہ نے معصوم شہریوں کے قتلِ عام پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کس قسم کی ناراضی ہے جس میں بے گناہ لوگوں کو ان کے خاندانوں کے سامنے بسوں سے اتار کر شہید کر دیا جاتا ہے؟ انہوں نے جعفر ایکسپریس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب ان دہشت گردوں کی لاشیں کوئٹہ کے اسپتال لائی گئیں تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے جا کر انہیں اپنے قبضے میں لیا؟ ان کا اشارہ ان عناصر کی طرف تھا جو دہشت گردوں کو سہولت کاری یا اخلاقی مدد فراہم کرتے ہیں۔ سینیٹر رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ ان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی ابہام کے بغیر سخت ترین ایکشن ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عناصر دشمن قوتوں کے آلہ کار بن کر ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے عزم ظاہر کیا کہ جس طرح ماضی میں "معرکہ حق” کے دوران دشمن کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا گیا تھا، ان دہشت گردوں کو بھی ان کے عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے ایوان اور پوری قوم پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے اس ناسور کے خلاف یکجا ہو جائیں اور کسی بھی ایسی منطق کو مسترد کر دیں جو ان قاتلوں کے دفاع یا انہیں "ناراض” ثابت کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہو۔