ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب اس وقت شدید انتظامی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث پورا طبی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ سابق ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والا خلا تاحال پُر نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے ہسپتال جیسے حساس ادارے کا نظم و ضبط داؤ پر لگ گیا ہے اور انتظامی معاملات میں عدم استحکام کے باعث طبی سہولیات کے معیار میں شدید گراوٹ کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بااختیار اور مستقل قیادت تعینات نہ کی گئی تو یہ بڑا طبی مرکز محض ایک ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا اور غریب مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سابق ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی معائنہ ٹیم کے اچانک دورے کے دوران سامنے آنے والی سنگین انتظامی کوتاہیوں کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد سے ہسپتال کی اعلیٰ ترین انتظامی نشست خالی پڑی ہے، جس کا براہِ راست اثر ہسپتال کے روزمرہ کے کاموں اور ادویات کی فراہمی پر پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے ادارے کو قائم مقام (Acting) ایم ایس کے رحم و کرم پر چھوڑنا عملی طور پر اسے تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے، کیونکہ عارضی چارج رکھنے والا افسر بڑے اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا، جس سے پالیسی سازی اور عملدرآمد کا عمل رک جاتا ہے۔
ننکانہ صاحب کے شہریوں اور طبی حلقوں نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نادیہ ثاقب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے کسی ایماندار، تجربہ کار اور سخت گیر ڈاکٹر کو مستقل طور پر ایم ایس تعینات کریں تاکہ ہسپتال میں ڈسپلن بحال ہو سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض عارضی انتظامات سے ہسپتال کا نظام نہیں چلایا جا سکتا بلکہ ایک مستقل اور بااختیار سربراہ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کی اصلاحاتی پالیسیوں کو نچلی سطح تک پہنچا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اب بھی بروقت اور درست فیصلہ نہ کیا گیا تو ہسپتال کا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا، جس کا خمیازہ ضلع بھر کے مریضوں کو بھگتنا پڑے گا۔