تہران/واشنگٹن/تل ابیب (کیو این این ورلڈ) ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے خطے بھر میں اہم فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایک امریکی ریسکیو مشن کے دوران جدید طیاروں کی تباہی سے امریکا کو بھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے، دوسری جانب جنگ بندی کی کوششیں جاری ہونے کے باوجود کشیدگی بدستور خطرناک سطح پر برقرار ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آپریشن “وعدہ صادق 4” کی تازہ لہر میں مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی اڈوں، کمانڈ سینٹرز اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت میں محمد الاحمد نیول بیس کے قریب امریکی افسران کے زیر استعمال ایک اہم مقام بھی شامل ہے جسے مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں امریکی کمانڈ سینٹر اور تربیتی مرکز پر بھی حملے کیے گئے جہاں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ کے قریب ایک اسرائیلی جہاز کو قادر کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز آگ کی لپیٹ میں آ گیا، اسی دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کر دی گئی ہے اور متعدد آئل ٹینکرز کو متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جس سے عالمی تیل سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں ایک امریکی پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے لیے کیے گئے خفیہ آپریشن کے دوران امریکا کے دو جدید ایم سی-130 جے طیارے ایک متروک ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا، ان طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے، یوں اس ایک واقعے میں امریکا کو 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ مشنز، دراندازی اور حساس آپریشنز کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور جدید دفاعی نظام سے لیس ہوتے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسی نوعیت کے ریسکیو مشنز کے دوران امریکی سی-130 طیارے اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ امریکا کے لیے بڑا عسکری اور نفسیاتی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
خطے میں جاری اس کشیدگی کے دوران کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد حملے ناکام بنائے، ان حملوں کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ لگنے اور کچھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور اطلاعات کے مطابق امریکا، ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی پر غور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم تاحال کسی حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت دھمکیوں اور ڈیڈ لائن دینے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے، دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگی نقصانات کا ازالہ کیے بغیر یہ اہم سمندری راستہ نہیں کھولا جائے گا۔
امریکا کے اندر بھی صدر ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے جہاں سینیٹرز چک شومر، برنی سینڈرز اور دیگر رہنماؤں نے ان کے طرز عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، حتیٰ کہ کچھ رہنماؤں نے صدر کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید جارحیت کی تو نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ باب المندب جیسے اہم عالمی تجارتی راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، اسی تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
چین اور روس نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے جبکہ پاکستان، مصر اور ترکی سمیت کئی ممالک پس پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
موجودہ حالات میں خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں ایک جانب شدید فوجی کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری جانب عالمی طاقتیں جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے آخری کوششیں کر رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔