خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نورحلیم آفریدی) ضلع خیبر میں دو بچوں میں پولیو کے کیسز سامنے آنے کے بعد انسداد پولیو کی سات روزہ خصوصی مہم (SNID) کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو 2 نومبر سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
ضلع خیبر میں حالیہ دنوں دو بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق تشویشناک امر قرار دی جا رہی ہے، جس کے بعد پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق ضلع خیبر سمیت مختلف اضلاع میں 2 سے 8 نومبر تک انسداد پولیو مہم جاری ہے، جس کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
ضلع خیبر میں مہم کے دوران 2 لاکھ 11 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کی تکمیل کے لیے 945 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ تحصیل باڑہ کی تمام یونین کونسلز کو بھی مہم میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔
یونین کونسل سپین قبر کے پولیو آفیسر نور سلام آفریدی کے مطابق ان کی یونین کونسل میں 4 ہزار 96 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سکولوں اور مدارس میں زیر تعلیم پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 147 ہے۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلا رہی ہیں اور مہم کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔
اس موقع پر والدین اور معاشرے کے تمام افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا اجتماعی ذمہ داری ہے، کیونکہ پولیو کا شکار ہونے والا بچہ عمر بھر کی معذوری کا سامنا کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف اس کی اپنی زندگی بلکہ پورے خاندان پر مرتب ہوتے ہیں۔
پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، حکومت خیبرپختونخوا، وفاقی حکومت، عالمی ادارہ صحت (WHO)، پولیس اور سکیورٹی ادارے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم ضلع خیبر میں پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے اور ہر بچے تک ویکسین پہنچانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اس موقع پر پولیو ٹیموں اور فیلڈ ورکرز کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جو سخت موسمی حالات، دشوار گزار علاقوں اور بعض مقامات پر جان کو لاحق خطرات کے باوجود بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
پولیو فیلڈ سٹاف کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کی طویل خدمات اور قومی ذمہ داریوں کے پیش نظر انہیں محکمہ صحت کا مستقل ملازم قرار دے کر تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ مطالبے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف محکموں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی کے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں، لہٰذا پولیو فیلڈ ورکرز کے لیے بھی ایسا اعلان کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف ہو اور انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہو سکے۔