قصور (کیو این این ورلڈ/طارق نوید سندھو)ضلع قصور میں یومِ عاشورہ کے موقع پر امن و امان کے قیام اور عزاداران کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے جامع اور فول پروف سکیورٹی پلان تشکیل دے دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ضلع بھر میں برآمد ہونے والے 24 جلوسوں اور 20 مجالس کی سکیورٹی کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریباً 2500 پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔
سکیورٹی پلان کے تحت ایک ایس پی، 9 ڈی ایس پیز، 31 انسپکٹرز، 328 اپر سب آرڈینیٹس، 177 ہیڈ کانسٹیبلز، 1400 کانسٹیبلز اور لیڈی پولیس اہلکاروں سمیت بڑی تعداد میں نفری تعینات کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریزرو پنجاب کانسٹیبلری، ایلیٹ فورس، دفتری و کلیریکل سٹاف، سول ڈیفنس اور رضاکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی میں پولیس کے شانہ بشانہ فرائض انجام دیں گے۔
پولیس کے مطابق یومِ عاشورہ کے موقع پر تین سطحی سکیورٹی حصار قائم کیا جائے گا جبکہ ضلع بھر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ مرکزی جلوس کی نگرانی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی جبکہ دیگر جلوسوں اور حساس مقامات پر نصب 320 سی سی ٹی وی کیمروں سے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔
سکیورٹی انتظامات کے تحت مجالس اور جلوسوں کے دوران اہم عمارتوں اور راستوں پر چھتوں کے اوپر مسلح پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔ جلوسوں کے روٹس سے ملحقہ تمام چھوٹے بڑے راستوں اور گلیوں کو خاردار تاروں اور قناتوں کے ذریعے بند کیا جائے گا تاکہ غیر متعلقہ افراد کی نقل و حرکت کو محدود رکھا جا سکے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ جلوسوں کے آغاز سے قبل تمام روٹس کی خصوصی سرچ اور سویپنگ کی جائے گی جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ راستوں کو کلیئر قرار دینے کے بعد ہی جلوسوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اسی طرح مجالس اور جلوسوں میں شرکت کرنے والے عزاداروں کی واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے مکمل تلاشی لی جائے گی۔
قصور پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال یا مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پکار 15 پر دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قصور پولیس یومِ عاشورہ کے موقع پر اپنے پیشہ ورانہ فرائض بھرپور ذمہ داری، مستعدی اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ سرانجام دے گی تاکہ تمام مجالس اور جلوس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں اور عزاداران کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت