کراچی (کیو این این ورلڈ) چیف فائر آفیسر کے ایم سی ہمایوں احمد نے شہر میں فائر فائٹنگ کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے سیکڑوں فائر ٹینڈرز درکار ہیں لیکن ہم انتہائی محدود وسائل اور چند گاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محکمہ 21 فائر اسٹیشنز کے فنڈز کے ساتھ 28 اسٹیشنز چلا رہا ہے، جو کہ ہماری اصل استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ کے دوران ہمارا ایک فائر فائٹر شہید ہو گیا، اس کے باوجود محکمے پر تنقید کی جا رہی ہے، حالانکہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر شہریوں کی خدمت کر رہے ہیں۔

گل پلازہ میں جاری ریسکیو آپریشن کے حوالے سے چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ رقبہ بہت بڑا ہونے کے باعث آپریشن مکمل ہونے میں 15 روز بھی لگ سکتے ہیں، کیونکہ ملبہ ہٹانے کے دوران دبی ہوئی آگ دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو ٹیموں نے اب تک پہلی اور دوسری منزل کی سرچنگ مکمل کر لی ہے، تاہم دوسری منزل پر حدت ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ روز چھت پر بنی پارکنگ سے 32 گاڑیاں بحفاظت نیچے اتاری گئیں، جبکہ آپریشن کے دوران ملنے والی نقدی بھی متعلقہ اداروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے روز آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریب جا کر آپریشن کرنا ممکن نہ تھا، لیکن اب تین روز سے ٹیمیں مسلسل جائے وقوعہ پر سرگرمِ عمل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے