ٹائم میگزین کی تحقیق: نیتن یاہو حکومت نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے لیے قطری امداد کا نظام برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا
امریکی جریدے ٹائم میگزین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومتوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک قطر کی جانب سے غزہ کے لیے مالی امداد کے نظام کو قائم کرنے، چلانے اور برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام عوامی سطح پر قطر پر حماس کی مالی معاونت کے الزامات عائد کرتے رہے، جبکہ پسِ پردہ قطری قیادت سے امدادی رقوم کی منتقلی جاری رکھنے کی درخواستیں بھی کرتے رہے۔
رپورٹ میں ٹائم میگزین کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویزات، اسرائیلی سکیورٹی حکام کے خطوط اور امریکی، اسرائیلی و عرب عہدیداروں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، قطر نے 2007 سے غزہ کے لیے مالی امداد فراہم کرنا شروع کی، تاہم اسرائیلی حکومت کا اس عمل میں براہِ راست کردار بعد کے برسوں میں زیادہ نمایاں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، 2012 تک بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے ایسا نظام منظور کرلیا تھا جس کے ذریعے اسرائیل قطری امداد کی منتقلی اور تقسیم میں براہِ راست کردار ادا کرتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، قطری امداد کا مقصد غزہ میں انسانی ضروریات پوری کرنا، ایندھن اور بجلی کی فراہمی بہتر بنانا، طبی سامان مہیا کرنا اور سرکاری ملازمین و مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کرنا تھا۔ اسرائیلی حکام امداد کے مستحق خاندانوں کی فہرستوں کی جانچ اور رقوم کی تقسیم کے طریقۂ کار کی نگرانی بھی کرتے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018 تک قطر غزہ کو تقریباً 1.1 ارب ڈالر فراہم کرچکا تھا۔ اسی سال قطر نے امدادی نظام میں اسرائیل کے کردار کی باضابطہ دستاویزات طلب کیں، جس کے بعد قطر، اسرائیل اور اقوامِ متحدہ کے درمیان تعاون کا طریقۂ کار باقاعدہ شکل اختیار کرگیا۔ 2 اکتوبر 2018 کو غزہ میں ایندھن کی فراہمی کے لیے بھی ایک معاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق، 2019 میں قطر نے اسرائیلی حکومت کو مطلع کیا کہ غزہ میں 20 ہزار مستحقین کو مجموعی طور پر 60 لاکھ ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت ہر مستحق شخص کو 300 ڈالر ملنے تھے۔ تاہم، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان مستحقین میں سے کتنے افراد کا حماس سے تعلق تھا یا ان کے اہلِ خانہ اس تنظیم سے وابستہ تھے، اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
2020 میں کورونا وبا کے دوران اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے ایک عہدیدار نے قطری حکام کو خط لکھ کر امداد کی منتقلی جاری رکھنے پر زور دیا۔ خط میں کہا گیا کہ قطری انسانی امداد موجودہ نظام کے تحت جاری رہنی چاہیے اور اسے دوسرے ثالثوں یا ممالک کے بجائے قطری نمائندے محمد العمادی کے ذریعے منتقل کیا جائے۔ اسی سال کے ایک الگ خط میں اس وقت کے موساد سربراہ یوسی کوہن نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قطری امداد نے غزہ میں انسانی صورتِ حال بہتر بنانے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق، اگست 2021 میں قطر نے تقریباً ایک لاکھ فلسطینی خاندانوں کو چار ماہ تک ماہانہ 100 ڈالر فراہم کرنے کے پروگرام کے لیے 4 کروڑ ڈالر مختص کیے۔ نیتن یاہو کے بعد نفتالی بینیٹ کی حکومت کے دور میں نقد رقم سے بھرے سوٹ کیسوں کے ذریعے رقوم پہنچانے کا طریقہ ختم کیا گیا، تاہم قطر کی جانب سے غزہ کے لیے وسیع تر امدادی پروگرام جاری رہا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے تقریباً دو ہفتے قبل، اس وقت کے موساد سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے دوحہ کا دورہ کرکے قطری امداد کی مدت میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام کا خیال تھا کہ غزہ کے شہریوں کے لیے مالی امداد جاری رہنے سے حماس کے پاس بھی کچھ کھونے کا امکان رہے گا، جسے اسرائیل دباؤ اور اثرورسوخ کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتا تھا۔ تاہم، 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد یہ امدادی انتظام ختم ہوگیا۔
قطر اور اسرائیل کا مؤقف
رپورٹ کے مطابق، قطر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی تمام مالی امداد اسرائیلی حکام اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مربوط طریقۂ کار کے تحت فلسطینی شہریوں تک پہنچائی گئی۔ قطری حکام نے کہا کہ اگر امدادی رقوم حماس تک پہنچی ہیں تو اس کی ذمہ داری اس نظام کی نگرانی کرنے والے اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب، نیتن یاہو ماضی میں اس الزام کو مسترد کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت نے حماس کو مضبوط کرنے کے لیے قطری امداد جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امداد کا مقصد غزہ میں شہری انتظامیہ کو فعال رکھنا اور انسانی بحران کو مزید سنگین ہونے سے روکنا تھا۔ ٹائم میگزین کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس تازہ تحقیق پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
رپورٹ میں سامنے آنے والی دستاویزات اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے قطری امداد کے نظام میں تعاون اور اس کی مسلسل منتقلی کے لیے کوششوں کو ظاہر کرتی ہیں، تاہم یہ دستاویزات بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ قطری انسانی امداد براہِ راست 7 اکتوبر کے حملوں پر خرچ ہوئی تھی۔