اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن قرض پروگرام کی اگلی قسط پر اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مشن اس وقت کراچی میں موجود ہے جہاں وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کر رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
مذاکرات کے دوران اسٹیٹ بینک حکام آئی ایم ایف وفد کو ملکی معاشی کارکردگی، زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، درآمدات اور فارن ایکسچینج کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو 17 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ ان ٹیکنیکل مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور یورو بانڈ کے کامیاب اجرا سے متعلق بھی بریف کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کا وفد مرکزی بینک سے مذاکرات کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے بعد 25 ستمبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا، جہاں وہ صوبائی حکومتوں اور کاروباری برادری کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باضابطہ اور حتمی مذاکرات 28 ستمبر سے شروع ہوں گے، جو وزیرِ خزانہ کی امریکا سے واپسی کے بعد طے پائے ہیں۔ ان مذاکرات میں وزارت خزانہ، نجکاری کمیشن، وزارت توانائی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام شامل ہوں گے۔