کراچی (کیو این این ورلڈ) شہرِ قائد کے مصروف ترین تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن کے دوران اب تک 26 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 83 ہو گئی ہے۔ متاثرہ دکانداروں نے سانحے کے حوالے سے دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ عمارت کے کل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، لیکن انتظامیہ رات دس بجے کے بعد 24 دروازوں کو تالے لگا دیتی ہے اور صرف دو دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے وقت تمام ایمرجنسی راستے بند تھے اور عمارت میں کوئی ‘ایمرجنسی ایگزٹ’ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی اور پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر گئی۔ بجلی کی بندش اور گھپ اندھیرے کے باعث وہاں موجود ورکرز اور گاہکوں میں بھگدڑ مچ گئی اور دھوئیں کی وجہ سے سانس لینا محال ہو گیا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ موقع پر ہی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں کو باہر نکالا لیکن راستوں کی بندش نے اس حادثے کو ایک بڑے جانی سانحے میں بدل دیا۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں لاپتہ افراد کی فہرست آویزاں کر دی گئی ہے جس میں مزید 12 افراد کے اضافے کے بعد کل تعداد 83 ہو گئی ہے، جبکہ 29 لاپتہ افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی گل پلازہ کے اطراف کی آ رہی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیے گئے ہیں اور 48 خاندانوں نے اپنے نمونے جمع کرائے ہیں تاکہ ناقابلِ شناخت لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکے۔ ڈی آئی جی اسد رضا کا کہنا ہے کہ یہ نمونے جامعہ کراچی کی فرانزک لیبارٹری بھیجے گئے ہیں جہاں اگلے تین روز تک کراس میچنگ کا عمل جاری رہے گا۔ اس دوران ناقابلِ شناخت لاشوں کو سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جو جمع شدہ ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لے کر آگ لگنے کی وجوہات اور انتظامی غفلت کا تعین کرے گی۔

اس المناک صورتحال میں جہاں ہر طرف تباہی کے مناظر تھے، وہیں ایک حیرت انگیز اور معجزاتی منظر بھی دیکھنے میں آیا جب ریسکیو اہلکار پہلی منزل پر موجود مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں رکھے قرآنِ پاک کے نسخے بالکل محفوظ حالت میں ملے۔ آگ سے مسجد کو بھی نقصان نہیں پہنچا اور اہلکاروں نے مقدس نسخوں کو اٹھا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ پہلی منزل پر قائم مسجد کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے اور وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ دریں اثنا، عمارت کی چھت پر پارک کی گئی گاڑیوں کو اتارنے کا عمل بھی جاری ہے، جہاں اب تک 7 گاڑیاں اتاری جا چکی ہیں جن میں سے دو گاڑیاں معجزاتی طور پر بالکل محفوظ تھیں جو ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

متاثرہ خاندانوں اور تاجروں نے ریسکیو آپریشن کی سست روی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ لاپتہ انس کے والد عمران اور بھائی اسامہ نے روتے ہوئے بتایا کہ انس نے فون کر کے کہا تھا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے، لیکن ریسکیو اہلکار صرف باہر سے پانی مار رہے ہیں اور اندر داخل نہیں ہو رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب لواحقین نے خود اندر جانے کی کوشش کی تو انہیں ڈنڈے مارے گئے۔ تاجر رہنما جمیل پراچہ نے بھی ریسکیو عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر دوپہر تک لاپتہ افراد کو تلاش نہ کیا گیا تو تاجر خود عمارت میں داخل ہوں گے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات گئے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور یقین دلایا کہ جب تک آخری لاپتہ شخص نہیں مل جاتا آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دینے اور نقصانات کے ازالے کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، ساتھ ہی انکشاف کیا کہ 1998 میں منظور شدہ عمارت کے نقشے میں بے ضابطگیاں کی گئی تھیں جن پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے