گھوٹکی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی اور اس کی تمام تحصیلیں اس وقت شدید دھند، کوہِر، گہرے اندھیرے اور سخت سردی کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث شہریوں اور مسافروں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے سے سڑکوں پر سفر جان لیوا بنتا جا رہا ہے، جبکہ عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مؤثر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
شہریوں کے مطابق اہم شاہراہوں، لنک روڈز، بازاروں اور چوراہوں پر نہ تو ناکہ بندی قائم کی گئی ہے اور نہ ہی پولیس یا ٹریفک پولیس کی مناسب تعیناتی نظر آ رہی ہے۔ شدید دھند کے باوجود تیز رفتار اور لاپرواہ ڈرائیونگ کے خلاف کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آ رہی، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری اور جامع جائزہ لیا جائے، ہر علاقے کا معائنہ کیا جائے اور شہریوں کو موجودہ خطرات سے بروقت آگاہ کیا جائے۔ ہر گلی، چوک اور شاہراہ پر پولیس اور ٹریفک پولیس کی تعیناتی، اہم مقامات پر فوری ناکہ بندی اور تمام تحصیلوں میں مسلسل موٹر سائیکل گشت شروع کیا جائے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری امداد ممکن ہو سکے۔
تفصیلات کے مطابق گھوٹکی تحصیل میں شدید دھند اور اندھیرے کے باوجود پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ میرپور ماتھیلو میں کوہِر اور اندھیرے کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں جبکہ نگرانی تقریباً صفر ہے۔ ڈہرکی میں حدِ نگاہ خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے مگر پولیس گشت اور حفاظتی اقدامات انتہائی ناکافی ہیں۔ اوباڑو میں دھند کی شدت کے باعث سفر انتہائی خطرناک ہو گیا ہے جبکہ ناکہ بندی نہ ہونے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خان گڑھ تحصیل میں بھی سردی اور دھند نے سفر کو جان لیوا بنا دیا ہے اور پولیس اقدامات غیر مؤثر قرار دیے جا رہے ہیں۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ دھند کے دوران تیز رفتاری اور لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف فوری چالان اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، پولیس کی عدم موجودگی پر ذمہ داران سے جوابدہی کی جائے اور حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں۔ شہریوں نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اب محض وارننگز کافی نہیں، عملی اقدامات فوری کیے جائیں، بصورت دیگر کسی بھی بڑے حادثے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ اور پولیس پر عائد ہوگی۔