گھوٹکی میں مبینہ ہراسانی کے خلاف احتجاج، متاثرین کی اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گاؤں ایوب لکھن کے متعدد رہائشیوں نے مبینہ زیادتیوں اور ہراسانی کے خلاف قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بعض بااثر افراد کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر مسلسل ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ اداروں سے رجوع کیا، تاہم اب تک انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ اگر ان کے دعوے بے بنیاد ثابت ہوں تو قانون کے مطابق ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، ایس ایس پی گھوٹکی اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے، عوام کا قانون پر اعتماد بحال ہو اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔

نوٹ: اس خبر میں شامل الزامات مظاہرین کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ حکام کا مؤقف بھی موصول نہیں ہوا۔ معاملہ زیرِ غور ہے اور حقائق متعلقہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے