میہڑ (کیو این این ورلڈ/نامہ نگارمنظور علی جوئیہ)میہڑ کے کچے کے علاقے میں مسلح ڈاکوؤں کے خلاف فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکار امام الدین کھوسو، عبدالحفیظ مہیسر اور عرفان علی چانڈیو کی نمازِ جنازہ عیدگاہ میہڑ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر دادو، ایس ایس پی دادو سمیت اعلیٰ پولیس و سول افسران، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ اعلیٰ افسران نے شہداء کے جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ نمازِ جنازہ کے دوران ہر آنکھ اشکبار تھی اور پورا شہر سوگ کی کیفیت میں ڈوبا ہوا نظر آیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس پارٹی ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کے لیے روانہ ہوئی۔ کچے کے علاقے میں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے مسلح ڈاکوؤں نے جدید ہتھیاروں سے پولیس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں تینوں اہلکاروں نے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
واقعے کے بعد کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ ملزمان کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
نمازِ جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کے راج کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ کے لیے خصوصی امدادی پیکج، مالی معاونت اور بچوں کی کفالت کی یقین دہانی بھی کرائی۔
بعد ازاں شہداء کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیے گئے، جہاں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔