مون سون بارشیں شدت اختیار کر گئیں، این ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ جاری کر دیا

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں سیلابی صورتحال کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 21 سے 24 جولائی تک فلیش فلڈز، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور بعض مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق اس وقت دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر اور دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ دریائے چناب کے مرالہ ہیڈ ورکس اور دریائے جہلم کے منگلا کے بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کے باعث اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1511 فٹ جبکہ منگلا ڈیم میں 1180 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بارشوں کی وجہ سے دونوں آبی ذخائر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ریڈیو پاکستان اور محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 90 ہزار سے بڑھ کر 3 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ خانکی میں ایک لاکھ 20 ہزار سے 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک اور قادر آباد میں ایک لاکھ سے 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی توقع ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 71 ہزار کیوسک سے بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب دریائے راوی، ستلج اور کابل میں فی الحال پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑے جانے کی صورت میں دریائے راوی اور ستلج میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ، نارووال اور گجرات کے مقامی ندی نالوں بشمول نالہ ایک، پلکھو، بسنتر، بائن اور نالہ ڈیک میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلابی ریلوں کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث نشیبی آبادیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

پہاڑی علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، بونیر، مردان اور پشاور کے مختلف ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے اضلاع استور، غذر، گلگت اور ہنزہ سمیت آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں سے سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، پوٹھوہار ریجن اور بلوچستان کے اضلاع بارکھان، لورالائی اور ژوب کے پہاڑی ندی نالوں اور رود کوہیوں میں بھی شدید طغیانی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے قریبی آبادیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ادھر اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھا جائے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل تیار رکھے جائیں۔

این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بارش کے دوران ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں کو عبور نہ کریں، بچوں کو پانی کے قریب جانے سے روکیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں این ڈی ایم اے کی موبائل ایپ اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی تازہ معلومات پر عمل کریں۔

حکام کے مطابق آئندہ دو سے تین روز کے دوران مون سون کا موجودہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے