یکم اکتوبر محض ایک قومی دن نہیں بلکہ جدید چین کے ایک نئے تاریخی دور کے آغاز کی علامت ہے

چین کا قومی دن اور پاک چین دوستی کا روشن سفر
تحریر:ناز پروین
nazpervin@hotmail. com
ناز پروین چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر اور معروف کالم نگار ہیں ۔انہوں نے چین کا سفر نامہ بھی تحریر کیا ہے ۔

یکم اکتوبر 1949ء کو بیجنگ کے تیان آن من اسکوائر میں تین لاکھ کے قریب چینی شہریوں اور فوجیوں کی موجودگی میں ماؤ زے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا۔ اس لمحے بلند ہونے والا پانچ ستاروں والا سرخ پرچم آنے والی دہائیوں میں چین کے ایک طویل اور غیر معمولی ترقیاتی سفر کی علامت بن گیا۔ ایک ایسا سفر جس نے چین کو مشکلات اور چیلنجز سے گزرتے ہوئے آج دنیا کی بڑی معاشی، صنعتی اور تکنیکی طاقتوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ یوں یکم اکتوبر محض ایک قومی دن نہیں بلکہ جدید چین کے ایک نئے تاریخی دور کے آغاز کی علامت ہے۔

سال 2026 میں چین اپنے قیام کی 77ویں سالگرہ منا رہا ہے۔اس موقع پر چین سمیت دنیا بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی چین کے قومی دن اور وسطِ خزاں کے تہوار کے حوالے سے پروقار استقبالیہ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔

پشاور میں قائم چائنہ ونڈو چینی ثقافتی مرکز پاک چین دوستی کا ایک خوبصورت مظہر ہے، جہاں اہم چینی ثقافتی تہوار اور تقریبات باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں۔ چائنہ ونڈو کے ذریعے خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنے برادر ملک چین کی ثقافت، روایات، تہواروں اور اہم قومی تقریبات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ اس سال بھی چین کا قومی دن چائنہ ونڈو میں بھرپور جوش و خروش اور شایانِ شان انداز میں منایا گیا، جس میں اہم سیاسی، ثقافتی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر چین کے قومی دن کی مناسبت سے خوبصورت کیک کاٹا گیا جبکہ شرکاء نے چین کی شاندار ترقی، اس کی ثقافتی روایات اور پاک چین دوستی کے مضبوط اور دیرینہ رشتوں پر اظہارِ خیال کیا۔اس موقع پر چائنہ ونڈو کو پاکستان اور چین کے جھنڈوں اور روایتی سجاوٹوں کے ساتھ سجایا گیا۔اس تقریب کے ذریعے چینی بھائیوں کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ پاکستانی عوام اپنے چینی بھائیوں کی ہر خوشی میں برابر کے شریک ہیں ۔

۔چین میں اس دن کو قومی تعطیل کا درجہ حاصل ہے اور "گولڈن ویک” کے نام سے ہفتہ بھر کی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔

چین کا قومی دن آتے ہی پورا ملک ایک جشن گاہ کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ شہروں کی سڑکیں سرخ پرچموں اور پھولوں سے سج جاتی ہیں، عمارتیں روشنیوں سے جگمگا اٹھتی ہیں اور تیان آن من اسکوائر میں قومی پرچم لہرانے کی تقریب اس دن کی اہم ترین علامت بن جاتی ہے۔ لاکھوں چینی شہری اس موقع کو اپنے خاندانوں کے ساتھ گزارتے، اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے اور چین کے خوبصورت تاریخی و سیاحتی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ یوں یکم اکتوبر صرف سرکاری سطح کی تقریب نہیں رہتا بلکہ عام چینی شہری کی زندگی میں بھی خوشی، قومی وابستگی اور اپنے ملک کی ترقی پر فخر کا دن بن جاتا ہے۔

یہ دن چینی قوم کے لیے صرف ایک قومی جشن نہیں بلکہ ایک ایسے سفر کی یاد دہانی بھی ہے جس میں ایک قوم نے عزم، محنت، نظم و ضبط، مسلسل جدوجہد اور طویل المدت منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے ملک کو دنیا کی بڑی معاشی، صنعتی اور تکنیکی طاقتوں میں شامل کیا۔

چین کی موجودہ ترقی کو دیکھا جائے تو یہ محض بلند و بالا عمارتوں، جدید شاہراہوں، تیز رفتار ٹرینوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نام نہیں۔ اس ترقی کے پیچھے کروڑوں انسانوں کی محنت، تعلیم، تحقیق، صنعتی پالیسی، انفراسٹرکچر کی مسلسل تعمیر اور مستقبل کو سامنے رکھ کر کیے جانے والے فیصلوں کی ایک طویل داستان ہے۔ آج چین سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، برقی گاڑیوں، جدید زراعت، ڈیجیٹل معیشت، ہائی اسپیڈ ریل اور جدید صنعت کے میدان میں دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔

چین کی ترقی کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے تجربات اور معاشی صلاحیتوں کو صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے مختلف ممالک کو تجارت، انفراسٹرکچر، توانائی، مواصلات اور معاشی تعاون کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک وسیع تصور پیش کیا۔ پاکستان اس وسیع تر تعاون کا ایک اہم شراکت دار ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی CPEC اس تعاون کی نمایاں مثال ہے۔

اختلاف کے باوجود مکالمے کا راستہ چین کی خارجہ پالیسی کا اہم اصول ہے ۔

چین کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے حالیہ دنوں کا ایک واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ستمبر 2026ء میں صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ چین اور امریکہ کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور دیگر عالمی و علاقائی معاملات پر شدید اختلافات موجود رہے ہیں، اس کے باوجود دونوں بڑی طاقتوں کی قیادت نے رابطے کا راستہ بند نہیں کیا۔ صدر شی کا واشنگٹن جانا اور صدر ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کرنا اس بات کی مثال ہے کہ شدید مسابقت اور اختلافات کے باوجود چین تعلقات کو محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے مذاکرات اور تعاون کے ذریعے سنبھالنے پر زور دیتا ہے۔

واشنگٹن میں صدر شی نے اس امر پر زور دیا کہ چین اور امریکہ کو اپنی مسابقت کو مناسب حدود میں رکھتے ہوئے اختلافات کو کم کرنا چاہیے اور ایسے تعلقات کی طرف بڑھنا چاہیے جہاں تعاون بنیادی عنصر ہو اور امن کی توقع برقرار رہے۔ دونوں ممالک نے احترام، انصاف اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعمیری اسٹریٹجک استحکام کی بات کی۔

یہ طرزِ عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اختلافات کا ہونا لازمی طور پر دشمنی اور مستقل محاذ آرائی کا مترادف نہیں۔ بڑی طاقتیں اپنے اختلافات کے باوجود مکالمہ، تجارت اور باہمی مفاد کے راستے تلاش کر سکتی ہیں۔ یہی سوچ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔

پاک چین دوستی کا رشتہ آزمائشوں سے گزر کر مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے ۔

پاکستان اور چین کی دوستی کی تاریخ سات دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے۔ 1951ء میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد دونوں ممالک نے وقت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک ایسی مضبوط شراکت داری میں تبدیل کیا جو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے باوجود مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ اس دوستی کی سب سے بڑی خصوصیت باہمی اعتماد ہے۔

دنیا میں حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، خطے میں کتنی ہی تبدیلیاں کیوں نہ آئیں، پاکستان اور چین کے تعلقات میں تسلسل برقرار رہا۔ قدرتی آفات کے مواقع ہوں، معاشی مشکلات ہوں، علاقائی کشیدگی ہو یا عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور رابطے کا سلسلہ جاری رکھا۔

پاکستان کے لیے چین صرف ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک اہم اسٹریٹجک اور معاشی شراکت دار بھی ہے۔ عالمی اور علاقائی معاملات پر بین الاقوامی فورمز میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی مشاورت ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کے مختلف قومی اور علاقائی معاملات پر چین نے متعدد مواقع پر سفارتی حمایت اور تعاون کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان نے بھی چین کے بنیادی قومی مفادات کے حوالے سے اپنے حماٸتی مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

CPEC اور BRI مشترکہ ترقی اور تعاون کے سفر کو اجاگر کرتے ہیں

پاک چین دوستی کا معاشی پہلو CPEC کی صورت میں ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں توانائی، مواصلات، گوادر، انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون کے کئی نئے امکانات پیدا کیے۔ لیکن CPEC کا مستقبل صرف سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں۔ اس کی اصل کامیابی یہ ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان میں صنعت، برآمدات، روزگار، جدید زراعت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی کا ذریعہ بن رہا ہے۔

CPEC 2.0 کے تناظر میں صنعتی تعاون، زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز، برآمدات اور انسانی وسائل کی ترقی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پاک چین معاشی تعلقات عام پاکستانی شہری کی زندگی میں زیادہ نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا وسیع تر تصور بھی اسی سوچ سے جڑا ہوا ہے کہ مختلف ممالک رابطوں اور تجارت کے ذریعے مشترکہ ترقی کے مواقع حاصل کریں۔ چین کی جانب سے شراکت دار ممالک کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش اس بات کی عکاس ہے کہ علاقائی ترقی کو وسیع تر معاشی تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ گوادر، CPEC اور علاقائی رابطوں کے ذریعے وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارت کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

یہاں چین کے ترقیاتی وژن کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ چین جن ممالک کے ساتھ BRI کے تحت تعاون کرتا ہے، وہاں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ صنعتی، تجارتی، فنی اور انسانی وسائل کی ترقی کے امکانات بھی پیدا کرنے پر زور دیتا ہے۔ ایک ایسا علاقائی نظام جس میں شراکت دار ممالک صرف راستے یا منڈیاں نہ ہوں بلکہ پیداوار، تجارت، صنعت اور ترقی کے فعال شراکت دار بنیں، طویل المدت تعاون کو زیادہ بامعنی بنا سکتا ہے۔

چین کی عالمی سفارت کاری امن، ترقی اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی ہے ۔

چین کی عالمی سفارت کاری میں امن، مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون کا تصور نمایاں ہے۔ امریکہ کے ساتھ موجود شدید اختلافات کے باوجود صدر شی کا حالیہ دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے کے دروازے کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔ اگر دنیا کی دو بڑی طاقتیں اپنے اختلافات کے باوجود مکالمے کی میز پر بیٹھ سکتی ہیں تو یہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے کہ مسائل کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی تلاش میں موجود ہو سکتا ہے۔

یہی سوچ پاکستان اور چین کے تعلقات میں بھی نظر آتی ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف عالمی اور علاقائی حالات میں اپنے تعلقات کو برقرار رکھا اور تعاون کے نئے راستے تلاش کیے۔ یہی تسلسل پاک چین دوستی کی اصل طاقت ہے۔

آنے والے برسوں میں پاک چین تعلقات کا دائرہ روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، گرین انرجی، جدید زراعت، معدنیات، صحت، تعلیم، سیاحت، ای کامرس اور جدید صنعت تک پھیل سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے چین کے ترقیاتی تجربے سے سیکھنے کا سب سے اہم میدان انسانی وسائل ہیں۔ ہماری نوجوان آبادی ایک بڑی قوت ہے۔ اگر نوجوانوں کو جدید تعلیم، فنی تربیت، ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان اور چین کے درمیان مستقبل کے معاشی پل بن سکتے ہیں۔

اسی طرح ثقافتی اور عوامی روابط بھی اس دوستی کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ ادب، فن، فلم، میڈیا، تعلیم، سیاحت اور زبان کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو زیادہ قریب سے سمجھ سکتے ہیں۔ حکومتوں کے تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن عوامی رابطے کسی بھی دوستی کو نسلوں تک منتقل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

چین کا قومی دن ہمیں صرف ایک دوست ملک کی ترقی کو دیکھنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ یہ بھی سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ قومیں اپنے عزم، مستقل مزاجی، منصوبہ بندی اور انسانی وسائل پر توجہ کے ذریعے کس طرح اپنا مستقبل بدل سکتی ہیں۔

پاکستان اور چین کی دوستی بھی ایک ایسے سفر کا نام ہے جس نے وقت کے کئی امتحانات دیکھے ہیں۔ آج اس دوستی کے سامنے ایک نیا دور ہے؛ ایسا دور جس میں انفراسٹرکچر کے ساتھ علم، ٹیکنالوجی، تجارت، صنعت، ثقافت اور انسانی ترقی کو مرکز بنانا ہوگا۔

چین کے قومی دن پر چینی قوم کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ یہ امید بھی ہے کہ پاکستان اور چین کا یہ دیرینہ رشتہ آنے والی نسلوں کے لیے امن، ترقی، خوشحالی اور باہمی احترام کا ذریعہ بنتا رہے گا۔

کیونکہ مضبوط دوستی صرف اس وقت ساتھ کھڑے ہونے کا نام نہیں جب حالات سازگار ہوں؛ اصل دوستی تو اختلافات اور مشکلات کے باوجود مکالمے، اعتماد اور تعاون کے راستے تلاش کرنے کا نام ہے۔ چین کی خارجہ حکمتِ عملی اور پاک چین دوستی ہمیں یہی پیغام دیتی ہے ۔

Naz Parveen

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے