غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس میں نائب وزیراعظم کے رشتہ دار کا نام سامنے آنے کا دعویٰ

لاہور (کیو این این ورلڈ) بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق لاہور پولیس نے دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا برائے تاوان کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان میں ایک بڑی سیاسی شخصیت کے رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ مقدمے کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ پر کی جا رہی ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ خواتین کی بازیابی کے لیے جب ڈیفنس کے علاقے میں چھاپہ مارا گیا تو معلوم ہوا کہ متعلقہ گھر میں نائب وزیراعظم کے رشتہ دار کرائے پر رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ملوث ملزم رضا ڈار کے اہلخانہ نے ہی پولیس کو اس کا نمبر فراہم کیا، جس سے اس کی گرفتاری میں مدد ملی۔

ڈی آئی جی کے مطابق کیس میں مبینہ "باس” کی شناخت وحید نامی شخص کے طور پر ہوئی ہے، جس کے خلاف پہلے سے متعدد مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچی تھیں، جہاں سے وہ مری اور دیگر مقامات کا سفر کرنے کے بعد 29 جون کو لاہور آئیں۔ بعد ازاں ان کے مبینہ اغوا کا واقعہ پیش آیا۔

فیصل کامران نے بتایا کہ خواتین کو بھٹہ چوک کے قریب اس وقت بازیاب کیا گیا جب وہ مبینہ ملزمان کی گاڑی سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور ایک فلٹر ہاؤس میں پناہ لی۔ ایک خاتون نے اپنے والد اور اے ایس پی ڈیفنس سے کانفرنس کال پر رابطہ کیا، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں خواتین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق ملزم رضا ڈار بعد ازاں اپنے اہلخانہ کے مشورے پر سرنڈر کرنے پر آمادہ ہوا، جسے ایس پی کینٹ نے گرفتار کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ جب معلوم ہوا کہ ایک بااثر شخصیت کا عزیز بھی اس کیس میں ملوث ہے تو اس سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام اور حکومت کو فوری طور پر آگاہ کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی ہدایت کی ہے کہ اس مقدمے میں کسی بھی ملزم کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

بی بی سی اردو کے مطابق مقدمے کی مدعی نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک تقریب کے دوران ان کی ملاقات لاہور کے ایک شخص سے ہوئی، جس نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی اور ویزے کا انتظام بھی کیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ بعد ازاں انہیں اور ان کی ساتھی کو اغوا کر کے یرغمال بنایا گیا، تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور ان کی ساتھی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا، جبکہ انہیں بھی قتل اور تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر خواتین کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان طلب کیا، جبکہ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ موقع ملنے پر وہ گاڑی سے نکل کر فرار ہوئیں اور عوام کی مدد سے پولیس تک پہنچ سکیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ بیرون ملک کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے متعلق مالی تنازع سے شروع ہوا، تاہم رقم کی واپسی کے لیے مبینہ طور پر اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مالی لین دین کا کوئی تنازع بھی موجود تھا تو قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ متاثرہ خواتین کے طبی معائنے سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

نوٹ: اس خبر میں شامل الزامات اور بیانات متعلقہ فریقین، لاہور پولیس اور بی بی سی اردو کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ مقدمے کی عدالتی کارروائی اور تفتیش ابھی جاری ہے، اس لیے حتمی حقائق کا تعین عدالت کے فیصلے کے بعد ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے