اسلام آباد (ویب ڈیسک): برطانیہ میں فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، پاکستان کا شدید ردعمل، برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن دفترِ خارجہ طلب
حکومتِ پاکستان نے برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز زبان اور جان سے مارنے کی دھمکیوں پر برطانیہ سے شدید احتجاج کیا ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی عدم موجودگی کے باعث برطانیہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) جاری کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین نے فیلڈ مارشل کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیے اور انہیں کار بم دھماکے میں نشانہ بنانے جیسی سنگین دھمکیاں دیں، جس کا حکومتِ پاکستان نے سخت نوٹس لیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین نے برطانوی قائم مقام ہیڈ آف مشن کی طلبی اور احتجاجی مراسلہ تھمانے کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس احتجاج کے لیے ایک سیاسی جماعت کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو مظاہرین جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جو کہ سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی شرپسندی یا ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ ڈیمارش میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِباب ہو سکے۔ حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قومی قیادت اور سلامتی کے اداروں کے خلاف غیر ملکی سرزمین سے دی جانے والی دھمکیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔