ہانگ کانگ(کیو این این ورلڈ) چین میں سائنس دانوں نے روبوٹس کے لیے ایک جدید ترین مصنوعی جلد (الیکٹرانک اسکن) تیار کر لی ہے، جس کی بدولت اب روبوٹس نہ صرف انسانی لمس کو محسوس کر سکیں گے بلکہ درد کا ادراک کرنے اور اس پر فوری ردعمل دینے کے بھی قابل ہوں گے۔ ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے انجینئر یو یو گاؤ کی قیادت میں تیار کی گئی یہ ‘نیورومورفک’ جلد انسانی اعصابی نظام کی طرز پر کام کرتی ہے اور چار فعال تہوں پر مشتمل ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا خودکار ریفلیکس سسٹم ہے، جس کے باعث اگر روبوٹ کسی نوکیلی یا گرم چیز کو چھوئے تو وہ مرکزی پروسیسر سے ہدایات کا انتظار کیے بغیر انسانوں کی طرح فوری طور پر اپنا ہاتھ جھٹک دے گا۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ مصنوعی جلد لمس کو برقی سگنلز میں تبدیل کر کے اعصاب کی طرح پیغامات منتقل کرتی ہے، جس میں دباؤ کی ایک خاص حد مقرر کی گئی ہے؛ یعنی معمولی دباؤ کو روبوٹ عام لمس سمجھے گا لیکن دباؤ بڑھنے پر اسے درد کے طور پر محسوس کر کے فوری ردعمل دے گا۔ یہ اسکن ننھے مقناطیسی ماڈیولز سے بنی ہے جو اسے نہ صرف حساس بلکہ انتہائی مضبوط بھی بناتے ہیں، اور اس میں نصب سینسرز مسلسل کام کرنے کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ اگر جلد کا کوئی حصہ کٹ جائے تو سگنل رکنے سے روبوٹ فوری چوٹ کی نشاندہی کر لیتا ہے، اور اگرچہ یہ جلد خود کو خودکار طریقے سے ٹھیک نہیں کر سکتی، تاہم مقناطیسی نظام کی وجہ سے متاثرہ حصے کو چند سیکنڈز میں تبدیل کرنا ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے