دھار،مدھیہ پردیش (کیو این این ورلڈ) بھارت کی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مودی سرکار کے مسلم دشمن ایجنڈے کے تحت ایک اور متعصبانہ فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی ’کمال مولہ مسجد‘ کو ہندو دیوی کا مندر قرار دے دیا ہے۔ اس متنازع فیصلے کے بعد پورے علاقے میں شدید کشیدگی، سیاسی اور مذہبی بحث نے سر اٹھا لیا ہے اور مسلم کمیونٹی میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع بھوج شالا کمپلیکس کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے۔ مسلمان تاریخی دستاویزات کی روشنی میں اس مقام کو کمال مولہ مسجد قرار دیتے ہیں، جبکہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں مودی سرکار کی پشت پناہی میں مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ یہ مسجد ایک قدیم مندر کی جگہ پر قائم کی گئی تھی۔
ہائی کورٹ نے اپنے متعصبانہ فیصلے میں آثارِ قدیمہ کے بھارتی ادارے (ASI) کی متنازع سروے رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ یہ مقام دراصل ہندو دیوی واگ دیوی سے منسوب مندر ہے، جس کے بعد ہندوؤں کو وہاں پوجا کی اجازت دے دی گئی۔ عدالتی فیصلے کے فوراً بعد مودی سرکار کی شہ پر بڑی تعداد میں ہندو انتہا پسند بھگوا جھنڈے لہراتے ہوئے مسجد میں داخل ہو گئے، جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں اور وہاں عارضی مورتی بھی نصب کر دی۔
دوسری جانب مسلم کمیونٹی نے اس یکطرفہ فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے اس تاریخی مسجد میں باجماعت نماز اور دیگر عبادات کرتے آئے ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ ان کے بنیادی مذہبی حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔
مسجد میں گزشتہ نصف صدی سے اذان دینے والے 78 سالہ معمر موذن محمد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ہماری ہی مسجد مودی سرکار کے دورِ حکومت میں ہم سے زبردستی چھین لی جائے گی۔ اس فیصلے نے ہمیں اپنی ہی زمین پر بے بس کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کئی معروف مؤرخین اور قانونی ماہرین نے آثارِ قدیمہ کے ادارے (ASI) کی سروے رپورٹ کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے شدید سیاسی دباؤ کے تحت تاریخی حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے اور مساجد کی مذہبی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے اداروں کو آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
بھارتی رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے فیصلے پر شدید ترین ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بابری مسجد کیس کے بعد شروع ہونے والے خطرناک سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد بھارت میں مسلمانوں کے تمام تاریخی اور مذہبی مقامات کے وجود کو مٹانا ہے۔ یاد رہے کہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور مودی سرکار کی نگرانی میں وہاں رام مندر کی تعمیر کے بعد اب گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ مسجد سمیت درجنوں مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔