بجلی کا بل: معاشی ظلم کی ایک لرزہ خیز کہانی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کا بحران اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سنگین سماجی ناسور اور انسانی حقوق کا المیہ بن چکا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ماہانہ بجلی کا بل اب صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسا خوفناک طوفان ہے جو ان کی زندگی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ وہ دیہاڑی دار جو سارا دن کڑی دھوپ میں مشقت کر کے چند سو روپے کماتا ہے، وہ چھوٹا تاجر جس کی دکان پر گاہکوں کی کمی ہے، اور وہ سفید پوش تنخواہ دار طبقہ جو پہلے ہی آٹا، دال، گھی اور چینی جیسی اشیائے ضروریہ کی آسمان چھوتی قیمتوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے—ان سب کے لیے بجلی کے نرخوں میں حالیہ ہوش ربا اضافہ کسی معاشی قتلِ عام سے کم نہیں۔
تصور کیجیے اس منظر کا جب ایک غریب گھرانے کی بجلی صرف اس لیے کاٹ دی جاتی ہے کہ وہ اپنی قلیل آمدنی میں بچوں کا پیٹ پالے یا تقسیم کار کمپنیوں کا ظالمانہ بل ادا کرے۔ بجلی کا منقطع ہونا صرف اندھیرے کا نام نہیں، بلکہ یہ جدید دور میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محرومی ہے۔ حبس اور شدید گرمی کے موسم میں جب پنکھے رک جاتے ہیں، تو معصوم بچوں کی چیخیں اور بوڑھوں کی بے بسی عرشِ الٰہی کو ہلا دیتی ہے۔ فریج کے بند ہونے سے نہ صرف سالن اور دودھ خراب ہوتا ہے، بلکہ ذیابیطس کے ان مریضوں کے لیے یہ موت کا پیغام بن جاتا ہے جن کی قیمتی انسولین کو ٹھنڈک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، روشنی کے بغیر بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، جو پہلے ہی تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق، بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے مڈل کلاس گھرانوں کے بجٹ میں 50 فیصد تک کا شگاف ڈال دیا ہے، اور چھوٹے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کی ایک نئی لہر سر اٹھا رہی ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بارہا پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ بجلی کے ٹیرف میں اصلاحات کا بوجھ کم آمدنی والے طبقے پر نہ ڈالا جائے، بلکہ ایسے ریفارمز لائے جائیں جو غریبوں کو تحفظ دیں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومت نے 7 بلین ڈالر کے قرض پروگرام کی قسطیں حاصل کرنے کے لیے غریب عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا ہے۔ کیا یہ معاشی انصاف ہے کہ آئی ایم ایف کی آڑ میں عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا جائے؟ جب حکمران صرف اعدادوشمار کی جادوگری دکھاتے ہیں، تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے ہر فیصلے کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی بددعائیں چھپی ہوتی ہیں۔
اس معاشی ظلم کی کہانی کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ "شاہانہ مراعات” ہیں جو سرکاری ملازمین کو حاصل ہیں۔ ایک طرف غریب کسان اور مزدور ہے جو ایک ایک یونٹ بچانے کے لیے اندھیرے میں بیٹھتا ہے، اور دوسری طرف پاور سیکٹر کے تقریباً 2 لاکھ ملازمین ہیں جو سالانہ 441.5 ملین یونٹس مفت بجلی ڈکار جاتے ہیں۔ ڈسکوز، واپڈا اور پی آئی ٹی سی کے گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 22 تک کے افسران کو لاکھوں روپے کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ 100 سے 1,300 یونٹس تک مفت بجلی فراہم کرنا غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کیا یہ افسران اتنے نادار ہیں کہ انہیں 22 ارب روپے کی یہ سالانہ خیرات دی جائے؟ وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری صاحب سے عوام سوال کرتے ہیں کہ انہیں یہ بندر بانٹ نظر کیوں نہیں آتی؟ لغاری صاحب! آپ کے والد محترم سردار فاروق احمد خان لغاری نے شرافت اور اصول پسندی کی سیاست کی، لیکن آپ کی وزارت میں عوام پر بجلی کے بموں کی برسات ہو رہی ہے۔ یاد رکھیے کہ مظلوم کی آہ سے آسمان کانپ اٹھتا ہے، اور اللہ کے ہاں دیر ہے پر اندھیر نہیں۔
حکومت کی انتظامی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ لائن لاسز اور بجلی چوری کا بوجھ بھی ایماندار صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جب لائن لاسز 18.3 فیصد تک پہنچ جائیں، جبکہ نیپرا کا ہدف صرف 11.8 فیصد ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ 2.4 ٹریلین روپے کا گردشی قرضہ (Circular Debt) کسی اور کی نہیں بلکہ ان پالیسی سازوں کی ناہلی ہے جو بڑے نادہندگان اور بجلی چور مافیا کے خلاف کارروائی کرنے سے کتراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام کا پارہ ہائی ہے؛ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ 46 ہزار میگاواٹ کی گنجائش ہونے کے باوجود ہم صرف 34 فیصد بجلی کیوں استعمال کر رہے ہیں اور اربوں روپے "کیپیسٹی پیمنٹس” کی مد میں آئی پی پیز کو کیوں دیے جا رہے ہیں؟
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی روش بدلے۔ کم از کم 400 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو فوری ریلیف دیا جائے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب مفت بجلی کی ظالمانہ سہولت فوری ختم کی جائے، بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹولرنس پالیسی اپنائی جائے اور لائن لاسز کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے۔ اس کے علاوہ، سولر انرجی کو قومی سطح پر فروغ دیا جائے تاکہ عوام مہنگی بجلی کے چنگل سے آزاد ہو سکیں۔
یہ کالم اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ان فرعونوں کے لیے ایک نوشتہ دیوار ہے جو عوام کی تکلیف سے بے نیاز ہیں۔ یاد رکھیے کہ بجلی کا بل اب محض ایک معاشی حساب کتاب نہیں رہا، بلکہ یہ اس ملک کے عوام اور نظام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتبار کی کہانی ہے۔ اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو عوام کا یہ خاموش غصہ ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کر سکتا ہے جو سب کچھ بہا لے جائے گا۔ اللہ پاک پاکستان کے غریب عوام کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں ان معاشی جابروں سے نجات دلائے۔ آمین۔
