سمجھوتہ ایکسپریس سے ٹارگٹ کلنگ تک؛دنیا کے امن کو تباہ کرتی بھارتی ریاستی دہشت گردی
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

"18 فروری 2007 کی وہ سرد رات آج بھی انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کی طرح ثبت ہے، جب سمجھوتہ ایکسپریس کے مسافروں کا لہو پانی پت کی پٹریوں پر بہایا گیا۔ مگر یہ محض ایک حادثہ یا عام دہشت گردی نہیں تھی، بلکہ ہندوتوا کے زیرِ سایہ پنپتی اس ریاستی دہشت گردی کا نقطۂ آغاز تھا جس نے آج جنوبی ایشیا سے لے کر کینیڈا تک عالمی امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے شعلوں سے اٹھنے والی سازشوں کی کڑیاں آج کے دور کی ٹارگٹ کلنگ، فالس فلیگ آپریشنز اور عالمی سطح پر پھیلے جھوٹے پروپیگنڈہ نیٹ ورکس سے جا ملتی ہیں۔ زیرِ نظر مضمون انہی کڑیوں کو جوڑ کر یہ بتانے کی ایک کوشش ہے کہ کس طرح بھارتی ریاست نے دہشت گردی کو ایک سفارتی ہتھیار میں بدل دیا ہے، اور یہ جنون دنیا کے امن کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن چکا ہے۔”

18 فروری 2007 کو بھارت کے علاقے پانی پت کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس پر ہونے والا دہشت گرد حملہ بظاہر ایک افسوسناک سانحہ تھا، جس میں 68 بے گناہ انسان جان سے گئے، جن میں 43 پاکستانی شہری شامل تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر بدنام کرنا تھا۔ تحقیقات نے ثابت کیا کہ اس حملے کے تانے بانے بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیموں، بالخصوص راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور ابھینو بھارت، سے جا ملتے ہیں جو ریاستی سرپرستی میں کام کر رہی تھیں۔ بھارتی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ سوامی اسیمانند اور بھارتی فوج کے حاضر سروس افسر کرنل پروہت اس خونی منصوبے کے مرکزی کردار تھے۔

یہ واقعہ دراصل اس طویل المدتی حکمت عملی کا نقطۂ آغاز تھا جسے بعد ازاں مودی سرکار نے باقاعدہ ریاستی پالیسی کی شکل دے دی۔ اس حکمت عملی میں فالس فلیگ آپریشنز، جعلی خبروں کے نیٹ ورکس اور ٹارگٹ کلنگ جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو سفارتی، سیاسی اور داخلی سطح پر کمزور کرنے کا ایجنڈا شامل رہا۔

بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر کام کرنے والی یہ تنظیمیں دہائیوں سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم مظالم میں ملوث ہیں، مگر مودی دور میں انہیں مکمل حکومتی پشت پناہی حاصل ہو گئی۔ 2006 سے 2008 کے درمیان مالے گاؤں، اجمیر درگاہ اور مکہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکے بھی اسی انتہا پسند نیٹ ورک کی کارستانیاں تھیں، جن کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر عالمی سطح پر نفرت کو ہوا دینا تھا۔ اگرچہ تحقیقات میں ان عناصر اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، مگر مودی سرکار نے انصاف کی راہ میں دانستہ رکاوٹیں کھڑی کیں اور بالآخر 2019 میں سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا، جو بھارتی عدلیہ پر ہندوتوا کے گہرے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے۔

ریاستی دہشت گردی کی یہ زنجیر 2008 کے ممبئی حملوں تک جا پہنچتی ہے، جہاں مہاراشٹرا کے انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو مشکوک حالات میں قتل کر دیا گیا۔ کرکرے دراصل سمجھوتہ ایکسپریس اور دیگر بم دھماکوں میں ملوث ہندو انتہا پسندوں کے راز بے نقاب کر رہے تھے۔ سابق پولیس افسر ایس ایم مشرف نے اپنی کتاب “Who Killed Karkare?” میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ کرکرے کا قتل کسی بیرونی حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ انہی داخلی طاقتوں کی کارروائی تھا جن کے جرائم وہ منظرِ عام پر لا رہے تھے۔

اس کے بعد مودی حکومت نے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو ایک منظم مہم کی شکل دے دی۔ پلوامہ جیسے واقعات کو فالس فلیگ آپریشنز کے طور پر استعمال کر کے نہ صرف داخلی سیاست میں فائدہ اٹھایا گیا بلکہ خطے کو جنگ کے دہانے تک لے جایا گیا۔ مقصد واضح تھا: انتخابات میں ووٹ حاصل کرنا، ہندوتوا بیانیے کو مضبوط کرنا اور پاکستان کو مسلسل دفاعی و معاشی دباؤ میں رکھنا۔ 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات اسی سلسلے کی تازہ مثال ہیں۔

بھارتی سازشیں محض الزامات اور پروپیگنڈے تک محدود نہیں رہیں بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی عملی سرپرستی کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے میں بھارت کے کردار کی تصدیق 2016 میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان سے ہو چکی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان کے راستے مالی اور عسکری مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کو مستقل عدم استحکام کا شکار رکھا جا سکے۔ بین الاقوامی رپورٹس میں بھی بھارتی انٹیلی جنس اور ان تخریب کار گروہوں کے درمیان روابط کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھارت نے ڈیجیٹل محاذ پر بھی ایک وسیع جعلی خبروں کا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کا پردہ فاش یورپی تحقیقی اداروں کی رپورٹس میں ہوا۔ سیکڑوں جعلی ویب سائٹس اور نام نہاد میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے یورپ اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان مخالف لابنگ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت اب عالمی سطح پر اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی اختیار کر چکا ہے، جس کی مثال کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اور پاکستان میں مزہبی رہنماؤں کی حالیہ ہلاکتیں ہیں۔ 2023 سے 2025 کے دوران ایسے درجنوں واقعات سامنے آئے جن میں بھارتی انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کے شواہد عالمی برادری کے سامنے آ چکے ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مودی سرکار جنوبی ایشیا کے امن کو داؤ پر لگا کر پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے ہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ان سازشوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کرے اور اپنے دفاعی و سفارتی حصار کو مزید مضبوط بنائے۔ اسی طرح عالمی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے خطرے پر اپنی خاموشی توڑے، کیونکہ بھارت کی یہ جارحانہ پالیسی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے