واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہیں گے۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنیوا میں متوقع یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، تاہم وہ ان میں براہِ راست حصہ لینے کے بجائے پسِ پردہ رہ کر اپنا کردار ادا کریں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اپنانے کی شہرت رکھتا ہے، لیکن گزشتہ برس امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اب تہران کو اپنے سخت گیر مؤقف کے نتائج کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس بار ایرانی حکام مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں اور ممکنہ طور پر کسی نئے معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری حالیہ اختلافات یا جھگڑے میں براہِ راست ملوث نہیں ہیں، لیکن وہ ان دونوں ممالک کے درمیان معاملات کو حل کرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری تنازع پر تعطل کے بعد اب جنیوا میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے، جسے عالمی سطح پر خطے کے امن کے لیے انتہائی کلیدی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں کسی بڑے عالمی معاہدے کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔