سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف مدثر رتو) صوبائی وزیر ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین نے کہا ہے کہ آئندہ مون سون سیزن سے قبل واسا سیالکوٹ کی جدید مشینری مکمل طور پر متحرک نظر آئے گی اور شہر میں نکاسیٔ آب کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دفتر ڈپٹی کمشنر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نئی مشینری کی خریداری پر ایک ارب 90 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ دو نئے ڈسپوزل اسٹیشن بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ بارشوں کے دوران شہریوں کو ماضی جیسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ گزشتہ ستمبر میں سیالکوٹ میں پانی جمع ہونے اور ڈی سی آفس میں پیدا ہونے والی صورتحال وزیراعلیٰ مریم نواز کے نوٹس میں ہے، اور اب سیالکوٹ کے لیے مجموعی طور پر 12 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے جس سے آئندہ دو سال کے اندر سیوریج کے مسائل پر مکمل قابو پا لیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے حکومت پنجاب کے دیگر فلاحی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "کلینک آن ویل” ایک انقلابی اقدام ہے جس کے ذریعے لوگوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات مل رہی ہیں، جبکہ "ستھرا پنجاب” منصوبے کو اب دیہی علاقوں تک توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہر ضلع کو الیکٹرک بس منصوبے میں شامل کیا جا رہا ہے اور جلد سیالکوٹ کی سڑکوں پر بھی الیکٹرک بسیں دوڑتی نظر آئیں گی۔ بلال یاسین کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں 25 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں اور سرکاری اسکولوں کے معیار میں بہتری کی وجہ سے عوام کا رجحان دوبارہ سرکاری تعلیم کی طرف بڑھ رہا ہے، جو کہ حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رہائشی سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے تحت ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایک لاکھ 21 ہزار گھر مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر ہے جس کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں اور ماہانہ قسط محض 14 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنا کر جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے۔ بسنت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس جشن کی بحالی کو معاشرے کے ہر طبقے نے سراہا ہے۔ بلال یاسین نے عزم ظاہر کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب رہی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی مخالفین کے لیے مزید مشکل خبریں متوقع ہیں۔