گرین پاکستان اور ایک فرد کی جدوجہد
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
ماحولیاتی تبدیلی آج دنیا کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے ترتیب بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور فضائی آلودگی جیسے مسائل ہمارے ماحول کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں “گرین پاکستان” اب محض ایک نعرہ نہیں رہا بلکہ ایک ناگزیر قومی ضرورت بن چکا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ خواب صرف حکومتی منصوبوں سے پورا ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان میں اس وقت جنگلات کا کل رقبہ تقریباً 5 فیصد کے قریب ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 20 سے 25 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ اس بڑے خلا کو پُر کرنا ایک ایسا چیلنج ہے جو صرف سرکاری مہمات کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عوامی شمولیت ناگزیر ہے۔
ایسے حالات میں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو محدود وسائل کے باوجود عملی میدان میں سرگرم ہیں۔ ضلع پاکپتن کے سماجی کارکن غلام رسول انہی باہمت شخصیات میں شامل ہیں، جو اپنے ادارے “خواب پورا کرنے کا ادارہ” کے ذریعے گرین پاکستان کے وژن کو عملی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
غلام رسول کی خدمات محض پودے لگانے تک محدود نہیں بلکہ وہ شجر کاری کو ایک مستقل ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے ادارے کی جانب سے مختلف علاقوں، تعلیمی اداروں اور دیہی آبادیوں میں شجر کاری مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پودے لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے، کیونکہ ہماری اکثر شجر کاری مہمات کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ پودے تو لگا دیے جاتے ہیں مگر ان کی حفاظت اور نگہداشت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔
ان کی کوششوں کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ نوجوانوں اور طلبہ کو اس مہم میں شامل کرتے ہیں۔ غلام رسول کا ماننا ہے کہ اگر نئی نسل میں ماحول دوست سوچ پیدا کر دی جائے تو آنے والے برسوں میں پاکستان خود بخود سرسبز ہو سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ آگاہی پروگرامز، تربیتی نشستوں اور عملی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں کسانوں کو سایہ دار اور پھل دار درخت لگانے کی ترغیب دینا بھی ان کی کاوشوں کا حصہ ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ماحول بہتر ہوتا ہے بلکہ مقامی لوگوں کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ یوں شجر کاری ایک سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ معاشی بہتری کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گرین پاکستان کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک شجر کاری کو وقتی سرگرمی کے بجائے قومی عادت نہ بنایا جائے۔ درخت لگانا آسان ہے، مگر اس کی حفاظت کرنا اصل خدمت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک درخت صرف سایہ یا خوبصورتی نہیں دیتا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا، بہتر موسم اور محفوظ ماحول کی ضمانت بھی ہے۔
غلام رسول جیسے افراد اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ اگر نیت مضبوط ہو تو محدود وسائل میں بھی بڑا کام کیا جا سکتا ہے۔ ان کی کاوشیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ قومی تبدیلی ہمیشہ ایک فرد سے شروع ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیمیں، تعلیمی ادارے، میڈیا اور عام شہری بھی اس قومی مہم کا حصہ بنیں۔ اگر ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر محلے میں چند افراد بھی اس ذمہ داری کو اپنا لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان واقعی ایک سرسبز اور خوشحال ملک بن جائے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گرین پاکستان کا خواب صرف منصوبوں سے نہیں بلکہ کردار سے پورا ہوگا، اور غلام رسول جیسے لوگ اسی کردار کی روشن مثال ہیں۔ اگر ہر ضلع میں ایسے چند افراد سامنے آ جائیں تو سرسبز پاکستان محض خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت بن سکتا ہے۔
