ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/حاجی محمد سعید گندی سے)ڈی جی خان کے تھانہ دراہمہ میں آج بھی ڈاکو بے لگام، چار ڈکیتیاں، ایس ایچ او کی کارکردگی مشکوک، ڈاکوؤں نے ایک گھنٹے کے اندر چار مختلف مقامات پر ڈکیتی کی وارداتیں کرتے ہوئے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ قصبہ سمینہ سادات، کوٹ چھٹہ بستی ملانہ اور ملتان روڈ کے علاقوں میں ہونے والی ان وارداتوں میں شہریوں سے موبائل فونز، نقدی اور موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں، جبکہ ایک نوجوان مزاحمت پر فائرنگ سے زخمی ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق حدود تھانہ دراہمہ میں پیش آنے والی پہلی واردات قصبہ سمینہ سادات میں ہوئی، جہاں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے ایک سید نوجوان کو اسلحہ کے زور پر روک کر اس سے نقدی اور موبائل فون چھین لیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد اسی علاقے میں دوسری واردات کے دوران ڈاکوؤں نے مولوی نامی شخص کو نشانہ بنایا اور اس سے بھی نقدی اور موبائل فون لوٹ کر فرار ہو گئے۔
تیسری واردات میں قصبہ سمینہ ہی کے رہائشی کھوسہ نوجوان سے ڈاکوؤں نے ہنڈا 125 موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی، تاہم نوجوان کی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گولی اس کے بازو میں لگی اور وہ زخمی ہو گیا۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، جبکہ ڈاکو فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
چوتھی واردات ملتان روڈ سروروالی کے مقام پر پیش آئی، جہاں ڈاکو ایک شہری سے موٹر سائیکل چھین کر فرار ہو گئے۔ اسی دوران کوٹ چھٹہ بستی ملانہ کے قریب بھی ڈکیتی کی ایک واردات رپورٹ ہوئی، جہاں ڈاکو موٹر سائیکل چھین کر لے گئے۔
پے در پے ڈکیتی کی ان وارداتوں کے بعد شہریوں میں شدید خوف و تشویش پائی جاتی ہے اور علاقے میں پولیس گشت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق مختلف مقامات سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے ناکہ بندی اور چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی وارداتوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ رات بھی تھانہ دراہمہ کی حدود ملتان روڈ بائی پاس چوک (جسے لوگ جہاز چوک کہتے ہیں) میں ڈاکوؤں نے مبینہ بھتہ کیلئے پٹرول پمپ پر فائرنگ کی جس پٹرول پمپ کے آفس کے شیشے ٹوٹ گئے ،اور ہرطرف خوف و ہراس پھیل گیا،جبکہ اس واقعہ سے قبل بھی وارداتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا،حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک روز قبل بھی تھانہ دراہمہ کے علاقے ٹھہڑی اور میرو مائنر پر زنگلانی ہاؤس کے قریب دوست کی شادی سے واپس آنے والے تقریباً ایک درجن افراد کو 5 مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر یرغمال بنا لیا۔ ڈاکوؤں نے متاثرین سے تین عدد نئے ہنڈا 125 موٹر سائیکل (ماڈل 2026)، نقدی اور درجنوں قیمتی موبائل فون لوٹ لیے، یہاں تک کہ بے خوف ڈاکوؤں نے متاثرین کی جیکٹس تک اتار لیں اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس مخصوص علاقے میں 5 سے زائد موٹر سائیکلیں چھینی جا چکی ہیں، لیکن پولیس تاحال کسی ایک ملزم کو بھی گرفتار کرنے یا لوٹا گیا سامان برآمد کرنے میں ناکام رہی ہے
شہری بار بار سوال کر رہے ہیں کہ ڈی پی او کی ایسی کیا مجبوری ہے جو ایک ناکام ایس ایچ او کو تبدیل نہیں کر رہے ،اس کی جگہ کوئی ایسا ایس ایچ او تعنیات کیوں نہیں کرتے جو اس بگڑتی ہوئی بدامنی ،لوٹ مار ،بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں پر مؤثر کنرول کرسکے اور علاقے امن و امان کی فضا قائم ہو سکے۔