ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/حاجی محمد سعید گندی ) تھانہ دراھمہ کی حدود میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور دراھمہ کی تاریخ کی بدترین ڈکیتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر سرکل کا یہ علاقہ اب لیاری کا منظر پیش کر رہا ہے اور ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ سے پورا علاقہ خوف و ہراس کی علامت بن چکا ہے۔ پولیس کی ناقص کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ ڈاکو اسلحہ کے زور پر شہریوں کو لوٹ کر باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔
اس وقت اوورسیز پاکستانی خصوصاً ڈاکوؤں کے نشانے پر ہیں اور چند ہی دنوں میں ایسی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں جہاں مزاحمت کرنے پر ایک نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نہ تو قاتل کو گرفتار کر سکی اور نہ ہی لوٹی گئی کوئی موٹر سائیکل برآمد ہو سکی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 5 ہنڈا 125 موٹر سائیکلیں اور آئی فونز سمیت درجنوں موبائل فون لوٹ لیے گئے۔ اسی ہفتے بھٹہ چوک پر دن دیہاڑے ایک اوورسیز پاکستانی سے آئی فون اور ہنڈا 2026 ماڈل چھین لیا گیا، جبکہ جہاز چوک مین روڈ پر بھی ایسی ہی واردات پیش آئی۔
گزشتہ رات ٹھہڑی کے نزدیک میرو مائنر پر دراھمہ کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی سامنے آئی جب دوست کی شادی سے واپس آنے والے ایک درجن کے قریب افراد کو مسلح ڈاکوؤں نے گھیر لیا۔ زنگلانی ہاؤس کے قریب 5 ڈاکوؤں نے ان سے 3 عدد ہنڈا 125 (ماڈل 2026)، نقدی اور آدھے درجن سے زائد موبائل فون چھین لیے اور ظلم کی انتہا کرتے ہوئے متاثرین کی جیکٹس تک اتار کر لے گئے۔ واقعہ کی اطلاع پر ڈی ایس پی صدر سرکل اور سی سی ڈی انچارج زاہد خان لغاری نے موقعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور متاثرین کو تسلیاں دیں، مگر تاحال کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دراھمہ پولیس کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے اور ناکامی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ متاثرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری انصاف فراہم نہ کیا گیا اور شہریوں کو تحفظ نہ ملا تو عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔
