ٹھٹھہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف بلاول سموں) ٹھٹھہ شہر کے مین گٹروں اور سیم نالوں کا زہریلا اور آلودہ پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث ٹھٹھہ اور مکلی کے لاکھوں شہری مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر مقامی انتظامیہ کی خاموشی نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ زرعی فصلوں اور مویشیوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ٹھٹھہ کے سیاسی و سماجی رہنما اور جی ڈی اے کے عہدیدار شاہنواز بروہی نے دیگر شہریوں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ گھار مسان شاخ کا پانی پینے اور زراعت کے لیے بنیادی ذریعہ ہے۔ تاہم، اب اس میں شہر بھر کی گندگی اور سیم نالوں کا زہریلا فضلہ شامل کیا جا رہا ہے، جو انسانی صحت کے لیے کسی بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی کے مسلسل استعمال سے نہ صرف انسانوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ جانوروں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کے باوجود اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، جو کہ متعلقہ حکام کی مجرمانہ لاپروائی ہے۔
شہریوں نے حکومتِ سندھ اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گھار مسان شاخ میں گندے پانی کی نکاسی فوری طور پر بند کی جائے اور شاخ کی صفائی کر کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد کوئی نوٹس نہ لیا گیا تو وہ اپنے حق کے لیے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کریں گے۔