میں صحافی نہیں ہوں
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
میں صحافی نہیں ہوں۔یہ جملہ میں نے کسی جذباتی لمحے میں نہیں کہا، بلکہ 2026 میں اُس دن خود سے دہرایا جب ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ کے روز پریس کلب کی ووٹر لسٹ جاری کی اور وہ فہرست میرے سامنے آئی۔ میں نے نام تلاش کیا، کئی بار دیکھا، مگر میرا نام اس فہرست میں موجود نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں پر محیط میرا صحافتی سفر، میری شناخت اور میرا وجود ایک سرکاری کاغذ کے ایک فیصلے سے بے معنی بنا دیا گیا ہو۔ یہ محض ایک فہرست نہیں تھی، بلکہ میرے لیے یہ اعلان تھا کہ میں اب سرکار کی نظر میں صحافی نہیں رہا۔
یہ کوئی تکنیکی غلطی نہیں تھی، نہ ہی کسی لاپرواہی کا نتیجہ۔ یہ ایک دانستہ اقدام تھا، جس کے پیچھے وہی سرکاری چمچے، نام نہاد لیڈر اور وہ عناصر کارفرما تھے جنہوں نے پریس کلب کی سیاست کو اصولوں کے بجائے مفادات کا کھیل بنا رکھا ہے۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ میرا نام نکالا گیا، حیرت اس بات پر ہے کہ 23 برس سے جاری صحافتی سفر، ذمہ داریاں، عہدے اور خدمات سب کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔
میرا صحافتی سفر 2003 میں روزنامہ سنگ میل ملتان سے شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ میں نے نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو چیف اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں، حتیٰ کہ گروپ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا۔ آج بھی میں مبشر لقمان جیسے سینئر صحافی کے ادارے باغی ٹی وی میں بطور انچارج نمائندگان خدمات انجام دے رہا ہوں، جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں ڈیرہ غازی خان کا بیورو چیف ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر مسلسل کالم لکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کی سیاست میں بھی میرا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا؛ مختلف ادوار میں باڈی کا حصہ رہا اور الیکشن شیڈول جاری ہونے تک بطور سینئر نائب صدر (الیکٹرانک میڈیا) ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ اس سب کے باوجود، سرکاری فہرست میں میرا نام نہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اس کا جواب بہت سادہ مگر بہت تلخ ہے۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں برائی کے اڈے نہیں چلاتا، نہ ان کی سرپرستی کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں جو خبر کے نام پر راتوں کو شراب اور گناہ کی محفلیں سجاتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں مانا کہ صحافت کے لیے کردار کی قربانی دینا لازم ہے، اسی لیے میں سرکار کی فہرست میں قابلِ قبول نہیں۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نے کبھی جوئے کے اڈے نہیں چلائے، نہ شراب و شباب کی محفلوں کا حصہ بنا اور نہ کسی قبیح فعل کو “ذاتی معاملہ” کہہ کر نظرانداز کیا۔ میں نے برائی کو برائی کہا، چاہے وہ کسی دوست کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ شاید یہی سب سے بڑا جرم ہے۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں تاجر نہیں ہوں جو تجارت کی آڑ میں دو نمبر سامان بیچتا پھرے۔ میرے پاس نہ چمکتی دمکتی گاڑی ہے، نہ کسی چیمبر آف کامرس کی چھتری، اور نہ ہی اشتہار کے بدلے خبر بیچنے کا ہنر۔ میں نے ہمیشہ قلم کو روزی نہیں، ذمہ داری سمجھا۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نہ سمگلر ہوں اور نہ سمگلروں کا سہولت کار۔ نہ کسی افسر کا کارِ خاص ہوں جو پردے کے پیچھے سودے طے کراتا پھرے۔ میں نے خبر کو کبھی “مفاد” کے ترازو میں تول کر ہلکا یا بھاری نہیں بنایا۔
میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میرے پاس وہ گاڑی نہیں جس میں محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران کو گھمایا جائے، ان کے لیے محفلیں سجائی جائیں یا انہیں مہمانِ خصوصی بنا کر خوش رکھا جائے۔ میں نے صحافت کو ٹیکسی سروس یا تعلقات کا ذریعہ نہیں بنایا۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے دفاتر میں حاضری دینے کا عادی نہیں۔ میں نے کبھی ان کے دروازوں پر کھڑے ہو کر سلامی نہیں بھری، نہ کسی کا سفارشی بنا اور نہ ہی کسی سفارش کا سہارا لیا۔ میرے نزدیک خبر طاقت کے ایوانوں میں نہیں، عوام کے دلوں اور گلیوں سے جنم لیتی ہے۔
اور میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں کسی سرکاری دفتر سے منتھلی کا خواہشمند نہیں رہا ہوں۔ نہ چوکیدار ہوں، نہ چپڑاسی، نہ وہ دیوس جو افسران کی راتیں رنگین کرنے کا کام کرے۔ میں اپنی حق حلال کی کمائی پر جیتا ہوں اور اسی پر فخر کرتا ہوں۔
یہ تمام باتیں دراصل میری نااہلی کی فہرست ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مجھے بتایا گیا کہ میں اب صحافی نہیں رہا۔ مگر میں پورے شعور کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اگر صحافی ہونے کی شرط یہی سب کچھ ہے تو پھر مجھے یہ اعزاز قبول نہیں۔
میں صحافی نہیں ہوں، مگر میں سچ لکھنے والا انسان ہوں۔میں وہ شخص ہوں جس کی جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر ضمیر نہیں۔میں وہ شخص ہوں جسے پریس کلب کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، مگر صحافت سے عشق ہے۔
دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں،ایشیا ہو یا یورپ، امریکہ ہو یا افریقہ..کہیں بھی حکومتیں صحافیوں کی "ووٹر لسٹیں” مرتب نہیں کرتیں۔ کہیں کسی ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ یا کسی نوکر شاہی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ میز پر بیٹھ کر یہ طے کرے کہ "کون صحافی ہے اور کون نہیں”۔ صحافی کی پہچان اس کا قلم، اس کا کام اور اس کی عوامی ساکھ ہوتی ہے، نہ کہ کسی سرکاری دفتر سے جاری ہونے والی کوئی فہرست۔ مگر حیرت ہے کہ مملکتِ خداداد میں "ڈیرہ غازی خان” وہ واحد بدقسمت ضلع بن چکا ہے جہاں ضلعی حکومت صحافیوں کے شجرے اور فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب پورے پاکستان میں صحافیوں کی سندِ صداقت بانٹنے کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دیا گیا ہے؟ یا پھر ڈیرہ غازی خان میں صحافت پر پہرے بٹھانے کا کوئی ایسا انوکھا اور خطرناک تجربہ کیا جا رہا ہے جسے ‘گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ’ میں درج کروانا مقصود ہے؟ اربابِ اختیار جواب دیں کہ کیا اب ضلعی افسر یہ طے کریں گے کہ سچ بولنے کا مجاز کون ہے؟ اگر آج صحافی کی پہچان سرکار کی مرضی سے ہوگی، تو کل خبر کا متن بھی سرکار لکھ کر دے گی، اور پرسوں سچ لکھنا ریاست کے خلاف بغاوت قرار پائے گا۔
میں برملا کہتا ہوں کہ میں "سرکاری صحافی” نہیں ہوں،اگر صحافت کی قیمت اپنی آزادی، ضمیر اور قلم کو کسی سرکاری فہرست کی زنجیر پہنانا ہے، تو مجھے ایسی صحافت سے توبہ ہے۔ یاد رکھیے! ووٹر لسٹ سے میرا نام تو کاٹا جا سکتا ہے، مگر تاریخ کے اوراق سے میری آواز مٹانا کسی سرکاری قلم کے بس میں نہیں۔ میں صحافی نہیں ہوں… اور شاید اسی لیے آج بھی آزاد ہوں۔
آخر میں صرف چھوٹا سا سوال "کیا ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازی خان کی تمام عوامی محرومیاں ختم کر دی ہیں کہ اب ان کے پاس صرف صحافیوں کی لسٹیں بنانےکا کام باقی رہ گیا ہے؟
